شمالی کوریا: ’پابندیوں اور دباؤ نے مذاکرات پر مجبور نہیں کیا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ پابندیوں نے اسے امریکہ اور جنوبی کوریا کے ساتھ مذاکرات پر مجبور نہیں کیا بلکہ اس فیصلے کے پیچھے اس کی خود اعتمادی ہے۔
شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق یہ بیان شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ملاقات کی پیشکش کو قبول کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
سی این اے کے اداریے میں اس ممکنہ سربراہی ملاقات کا براہ راست حوالہ نہیں دیا گیا تاہم یہ کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے ’امن سے متعلق پیشکش‘ نے پیانگ یانگ کے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں ’تبدیلی کا نشان‘ بنا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
منگل کو جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق امریکہ اور جنوبی کوریا کو مذاکرات کی دعوت دینا شمالی کوریا کی خود اعتمادی کا اظہار ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیان کے مطابق شمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا کو ’پابندیوں اور دباؤ‘ کی وجہ سے مذاکرات کی دعوت دی جو بالکل ’احمقانہ‘ ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی جانب سے ملاقات کی دعوت قبول کر لی ہے اور دونوں رہنما رواں سال مئی میں ملاقات کریں گے۔
اسی بارے میں
دونوں رہنماؤں کی ملاقات کب اور کہاں ہو گی اس بارے میں ابھی کچھ واضح نہیں ہے۔
اگر یہ ملاقات ہوئی تو امریکہ اور شمالی کوریا کے موجودہ رہنماؤں کے درمیان یہ پہلا براہِ راست رابطہ ہو گا۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ماہ فروری میں کہا تھا کہ امریکہ شمالی کوریا کے خلاف نئی اقتصادی پابندیاں لگانے لگا ہے جو کہ تاریخ کی 'سب سے بڑی پابندیاں' ہیں۔











