ٹرمپ کے وکیل کا اعتراف کہ پورن سٹار کو پیسے دیے تھے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک طویل عرصے سے ذاتی وکیل مائیکل کوہن نے اخبار نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے 2016 میں ذاتی حیثیت میں پورن فلموں کی ایک سٹار کو ایک لاکھ تیس ہزار ڈالر دیے تھے۔
یاد رہے کہ امریکی میڈیا میں یہ اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ اداکارہ سٹورمی ڈینیئلز کو ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مبینہ جنسی روابط کے بارے میں خاموش رہنے کے لیے پیسے دیے گئے تھے۔
سٹورمی ڈینیئلز نے 2011 میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ روابط تھے۔
یہ بھی پڑھیے
ٹرمپ کے وکیل ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ صدر ٹرمپ ان روابط کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔
نیو یارک ٹائمز نے مائیکل کوہن کے حوالے سے بتایا کہ ’نہ تو ٹرمپ آرگنائزیشن اور نہ ہی ٹرمپ صدارتی مہم اس ادائیگی کا حصہ تھی اور نہ ہی ان میں سے کسی نے براہِ راست یا بلاواسطہ طور پر مجھے بعد میں یہ رقم ادا کی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یاد رہے کہ مائیکل کوہن نے فیڈرل الیکشن کمیشن کے سامنے بھی اس حوالے سے یہی بیان جمع کروایا تھا۔
مائیکل کوہن کا کہنا تھا کہ اداکارہ کو ادائیگی قانون کے دائرے میں تھی اور یہ نہ تو انتخابی مہم میں کسی قسم کا خرچہ یا انتخابی مہم کے لیے کسی قسم کی امداد تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم 2011 میں اِن ٹچ نامی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے اداکارہ کا کہنا تھا کہ ان کا ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ جنسی رشتہ 2006 میں ملانیہ ٹرمپ کے بیٹے بیرن کو جنم دینے کے کچھ عرصے بعد شروع ہوا تھا۔
یہ اطلاعات ایک مرتبہ پھر منظرِ عام پر اس وقت آگئیں جب اخبار وال سٹریٹ جنرل نے بتایا کہ 2016 کے صدارتی انتخاب سے قبل انھیں اس بارے میں خاموشی اختیار کرنے کے لیے پیسے دیے گئے تھے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ اُس وقت یہ اداکارہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے بات چیت کرنے کے لیے امریکی میڈیا سے مذاکرات کر رہی تھیں۔
اخبار نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ مائیکل کوہن نے ان سوالوں کے جواب دینے سے انکار کیا کہ اداکارہ کو ادائیگی کیوں کی گئی یا کیا ٹرمپ اس بارے میں جانتے تھے۔
رواں سال جنوری میں سٹورمی ڈینیئلز نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں انھوں نے اس رشتے کی تردید کی تھی۔
اس کے بعد سے وہ جب بھی ٹی وی یا پبلک میں کہیں آئی ہیں انھوں نے اس حوالے سے سوالات کا جواب دینے سے انکار کیا ہے۔








