مصر صدارتی انتخابات: انتخابی عمل سے ناخوش ایک اور امیدوار دستبردار

مصر

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمصر کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے والے انسانی حقوق کے وکیل خالد علی

مصر کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے والے امیدوار اور انسانی حقوق کے وکیل خالد علی نے مہم سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے حمایتیوں کو ڈرایا اور دھمکایا جا رہا ہے اور انتخابی عمل کرپٹ ہے۔

خالد علی کی دستبرداری سے موجودہ صدر عبد الفتح السیسی کی 26-28 مارچ کو ہونے والے انتخاب میں کامیابی یقینی ہو گئی ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

اس سے قبل ایک اور امیدوار، سابق فوجی افسر سمیع عنان کو فوجی قوانین توڑنے کی وجہ سے حراست میں لے لیا گیا تھا اور ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے سے قبل اجازت نہیں لی تھی۔

واضح رہے کہ صدر السیسی 2013 سے ملک کی صدارت سنبھالے ہوئے ہیں جب ان کی قیادت میں فوجی بغاوت کے تحت ملک کے اس وقت کے سربراہ محمد مرسی کو ہٹا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد 2014 میں ہونے والے انتخابات میں السیسی نے بڑی اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کی تھی۔

مصر

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمصر کے صدارتی انتخاب مارچ 26-28 کو منعقد ہوں گے

بدھ کو قاہرہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خالد علی نے کہا کہ 'ہمارے اندازوں کے مطابق عوام کا انتخابی عمل اور اس کے نتیجے میں آنے والی تبدیلیوں پر اعتماد مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے جس کے بعد ہمارے فیصلہ ہے کہ ہم ان انتخابات میں شرکت نہیں کریں گے۔'

اسی بارے میں

خالد علی نے مزید کہا کہ انتخابات میں شرکت کرنے کے فیصلے کے بعد سے ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جا رہا تھا اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

مصر کے الیکشن کمیشن نے اب تک خالد علی کی دستبرداری پر کوئی بیان نہیں دیا ہے۔