ترکی: کم عمر لڑکیوں کے حمل کے کیسز پر غم و غصہ

ترکی میں کم عمر لڑکیوں کے حمل پر بحث

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ترکی میں متعدد کم عمر لڑکیوں کے حاملہ ہونے کی خبروں کے بعد لوگوں نے سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

استنبول کے صرف ایک ہسپتال میں 5 ماہ سے کم عرصے میں 115 لڑکیوں کا علاج ہوا ہے جن میں 39 کا تعلق شام سے ہے۔

مقامی ویب سائٹ حریت کے مطابق ان میں سے 38 لڑکیاں جب حاملہ ہوئی تو ان کی عمر 15 سال سے بھی کم تھی جبکہ 77 لڑکیاں 18 سال سے کم عمر تھیں۔

ترکی میں جنسی تعلق قائم کرنے کے لیے رضامندی ظاہر کرنے کے لیے کسی بھی شخص کی عمر کم از کم 18 سال ہونا لازمی ہے اور اس سے چھوٹی عمر میں حاملہ ہونے والی لڑکیوں کے تمام کیسز بچوں کے جنسی استحصال کے زمرے میں آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ترک زبان میں استعمال ہونے والا ہیش ٹیگ جس کا ترجمہ ہے کہ '115 بچوں کا استحصال چھپایا نہیں جا سکتا' بدھ سے 46000 دفعہ استعمال کیا جا چکا ہے۔

زیادہ تر افراد نے سوشل میڈیا پر غم کا اظہار کیا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں بچیاں جنسی استحصال کا نشانہ بنی ہیں۔

ایک صارف کا کہنا تھا 'ہم سب کو ایسی دنیا میں رہنا چاہیے جس میں بچے بچے ہی رہیں‘۔

اس خبر نے خواتین کے حقوق کو بھی ایک بار پھر موضوع بحث بنا دیا ہے۔ ماضی میں خواتین کو سڑک پر چلتے ہوئے ہنسنے اور انہیں سادہ لباس پہننے کے بارے میں معاشرتی دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے ایک صارف نے کہا کہ خواتین کے چال چلن کے بجائے اب ان کی حفاظت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

'کم عمر لڑکیوں کے کپڑوں اور اُن کی ہنسی کے بجائے اُن کی حفاظت کرنا سیکھیں'

اس ٹویٹ کو 3700 دفعہ لائیک کیا گیا۔

ایک ٹوٹر صارف نے شام سے آنے والی لڑکیوں کے مسائل کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا 'بظاہر کئی لڑکیوں کا تعلق شام سے ہے۔'

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

اس پیغام میں مزید کہا گیا 'میں جہاں کام کرتی ہوں وہاں ہم نے پولیس کو ایسی 15 برس کی لڑکی کے بارے میں بتایا مگر سوائے بیان لینے کے اُنہوں نے کچھ نہیں کیا۔ قانوں ان کے لیے نہیں ہے'۔

شام میں جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افراد نے ترکی میں پناہ حاصل کی ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری بحث غیر مذہبی اور مذہبی قدامت پسند گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان ہو رہی ہے۔

ایک صارف نے خواتین کے حقوق کے لیے کیے جانے والے مظاہروں کی تصویر ٹویٹ کی اور حزب اختلاف کی سیکولر جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) پر غیر اخلاقی حرکتوں کی حوصلہ افزائی کرنے کا الزام لگایا۔

'آپ اپنی لڑکیوں کے دماغ میں برے خیالات ڈال رہے ہیں اور پھر حکومت پر الزام لگاتے ہیں۔ بائیں بازو کی سوچ اور سی ایچ پی یہ سب آپ کا کرنا ہے۔'

معروف ترک مصنف اُمت کیوانک نے ملک میں بچوں کے استحصال کے خلاف عوام کو متحد ہونے کے لیے کہا ہے۔ انہوں نے ٹوٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ 'ایسی قوم جو اس طرح کے موضوع پر یکجا نہ ہوسکے اُن کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔'

مقامی اخبار حریت ڈیلی کے مطابق جس ہسپتال میں کیسز گئے ہیں وہ فی الحال زیر تحقیق ہے کہ اُس نے حکام کو بچیوں کے حمل کے بارے میں کیوں اطلاع نہیں دی۔