سعودی عرب میں مذہبی رہنما سے نہ پوچھ گچھ ہو رہی ہے نہ فردِ جرم عائد کی جا رہی ہے: ہیومن رائٹس واچ

سلمان العوداہ

،تصویر کا ذریعہNYT

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں ایک معروف مذہبی رہنما کو ملک میں حکومت مخالف احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کر کے چار ماہ سے بغیر کوئی فردِ جرم عائد کیے حراست میں رکھا جا رہا ہے۔

سلمان العوداہ ان 20 افراد میں سے ایک ہیں جنھیں ستمبر میں سعودی حکومت کی جانب سے ’غیر ملکی قوتوں کی انیلیجنس کارروائیوں‘ کو روکنے کے سلسلے میں ہونے والے کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیے

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ سلمان العوداہ کے خاندان والوں کا ماننا ہے کہ انھیں ایک ٹوئٹ کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے جس کا تعلق ہمسایہ ملک قطر سے تھا۔ سعودی عرب نے قطر کے ایران اور اسلامی شدت پسندوں کے ساتھ مبینہ تعلقات کی وجہ سے قطر کے ساتھ تمام سفارتی تعلقات معطل کر دیے ہیں۔

ہیومن رائسٹ واچ کا صدر دفتر امریکی شہر نیویارک میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد سے سلمان العوداہ کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے اور ان سے نہ ہی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی فردِ جرم عائد کی جا رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق سلمان کو اکتوبر میں ایک فون کال کی اجازت دی گئی تھی۔ انسانی حقوق کے سعودی کارکنان کا کہنا ہے کہ سلمان کے بھائی خالد کو اس لیے گرفتار کر لیا گیا ہے کیونکہ انھوں نے سلمان کی گرفتاری کی خبر عام کی تھی۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ سعودی حکام نے العوداہ خاندان کے 17 افراد پر سفر کرنے کی پابندی بھی عائد کی ہوئی ہے۔