سعودی عرب ناراض، ’یہ کیوں نہیں کہا کہ فون امیرِ قطر نے کیا‘

قطر

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسعودی عرب کے کئی حلیف ممالک نے قطر سے اپنے تعلقات منقطع کر رکھے ہیں

عرب ممالک اور دوحہ کے درمیان جاری تنازع کی حل کے لیے قطر کے حکمراں اور سعودی ولی عہد کے درمیان گفتگو کی خبر پر ناراضی کے بعد سعودی عرب نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کر دیا ہے۔

اس سے پہلے سعودی عرب اور قطر کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک بات چیت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع میں بہتری کی امید نظر آئی تھی۔

اس گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے مذاکرات شروع کرنے میں دلچپسی کا اظہار کیا تھا۔

تاہم اس خبر کے آنے کے بعد سعودی عرب نے اس بات ناراضی کا اظہار کیا کہ قطر کی خبر رساں ایجسنی کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ فون ان کے ملک کی جانب سے کیا گیا تھا۔

ٹیلی فون پر ہونے والے بات چیت میں قطر کے حکمران نے سعودی عرب کے ولی عہد سے عرب ممالک اور دوحہ کے درمیان پیدا ہونے والے بحران کے بارے میں مذاکرات کی اپیل کی تھی۔

سعودی نیوز ایجنسی ایس پی اے کے مطابق قطری امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی نے کہا کہ وہ سعودی عرب اور اس کے دوسرے حلیف ممالک کے مطالبات پر بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔

خیال رہے کہ سعودی عرب، بحرین، مصر اور متحدہ عرب امارات نے قطر سے پانچ جون کو اس الزام کے ساتھ رشتے منقطع کر لیے تھے کہ قطر دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے۔ قطر ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔

قطری رہنما نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے جمعے کو بات کی۔

سعودی پریس ایجنسی یعنی ایس پی اے کے مطابق 'گفتگو کے دوران قطری امیر نے مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر چار ممالک کے مطالبات پر غور کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تاکہ ہر کسی کے مفادات کی یقین دہانی ہو سکے۔'

نیوز ایجنسی کا کہنا تھا کہ اس فون کال کی تفصیل اس وقت ظاہر کی جائے گی جب بحرین، مصر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ سعودی عرب کسی معاہدے پر پہنچ جاتا ہے۔

قطر

،تصویر کا ذریعہReuters

مگر اس فون کال کی خبر سامنے آنے کے کچھ دیر بعد ایس پی اے نے قطری میڈیا کو دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان فون کال سے متعلق حقیقت کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا الزام لگاتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ تمام مذاکرات اب 'معطل' ہیں۔

اطلاعات کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان فون پر گفتگو ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سے علیحدہ علیحدہ بات چیت کے بعد ہی ممکن ہو سکی۔

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا: 'صدر (ٹرمپ) نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی استحکام اور ایران کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ کے عرب اتحادیوں کے درمیان اتحاد ضروری ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ 'دہشت گردی کو شکست دینے، دہشت گرد گروپس کی فنڈنگ روکنے اور انتہا پسند نظریات سے لڑنے کے لیے تمام ممالک کو اپنے عہد کی پابندی کرنی ہو گی۔'

اس سے قبل سعودی عرب، بحرین، مصر اور یو اے ای نے قطر پر عائد پابندیوں کو ہٹانے کے لیے شرائط کی ایک فہرست دے تھی جن میں ایران سے تعلق کو کم کرنے اور الجزیرہ میڈیا ہاؤس کو بند کرنا شامل ہے۔

ان ممالک نے قطر کے فنڈ سے چلنے والے قطری میڈیا ہاؤس پر انتہا پسندی کو فروغ دینے کا الزام لگایا ہے جس کی یہ میڈیا ہاؤس تردید کرتا ہے۔