اردوغان اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ بیانات کا تبادلہ

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے یکہ طرفہ فیصلے کے بعد سے اسرائیل اور ترکی کے درمیان تعلقات بڑی تیزی سے کشیدگی کی طرف سے بڑھتے چلے جا رہے اور اتوار کو دونوں ملکوں کے رہنماؤں کی طرف سے تلخ بیانات کا تبادلہ ہوا ہے۔
استنبول میں ایک تقریر میں ترکی کےصدر رجب طیب اردوغان نے امریکی کی طرف سے اس متنازع فیصلے کے خلاف لڑنے کا اعلان کیا اور اسرائیل کو ایک ’دہشت گرد‘ ریاست قرار دیا جو بچوں کو قتل کرتی ہے۔
چند گھنٹوں بعد اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے لیڈر سے لیکچر نہیں لیں گے جو کردستان کے دیہاتوں پر بم برساتا ہے اور دہشت گردوں کی مدد کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں!
حالیہ برسوں میں دونوں ملک کے درمیان تعلقات بہتر ہو رہے تھے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کے بارے میں فیصلے کے بعد ترکی نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور انقرا میں امریکی سفارت خانے کے سامنے سب سے پہلے عوامی احتجاج کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر ٹرمپ کے اس فیصلے پر جس کی امریکہ کے روائتی اتحادیوں نے بھی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے پوری دنیا اور خاص طور پر مسلم دنیا میں شدید احتجاج جاری ہے۔ فلسطینیوں مقبوضہ علاقوں میں ہونے والے مظاہروں میں اب تک چار افراد ہلاک اور ہزار کے قریب لوگ زخمی ہو چکے ہیں۔
ترک صدر نے کہا کہ ’فلسطین بالکل معصوم ہے۔۔ اور اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست، ہاں دہشت گرد ریاست۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
انھوں نے مزید کہا کہ وہ ’یروشلم کو ایک ایسی ریاست کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے جو بچوں کو قتل کرتی ہے۔‘
اردوغان اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ یروشلم جس کے مشرقی حصے کو فلسطینی اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں وہ مسلمانوں کے لیے ’سرخ لکیر‘ ہے جس کو عبور نہیں کیا جانا چاہیے۔
نیتن یاہو نے پیرس میں فرانس کے صدر کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ : ’وہ اخلاقیات پر ایک ایسے رہنما سے لیکچر سننے کے عادی نہیں ہیں جو اپنے ہی ملک میں بسنے والے کردوں کے دیہاتوں پر بم گراتا ہو، جو صحافیوں کو جیل میں ڈالتا ہو، جو ایران کو بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے میں مدد کرتا ہو، جو غزہ میں بھی دہشت گردوں کی مدد کرتا ہو۔‘
اردوغان نے اسلامی ملکوں کی تنظیم کے موجودہ چیئرمین ہونے کی حیثیت سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی صدر کے فیصلے کی مذمت کرنے کے لیے بدھ کو تنظیم کا اجلاس طلب کیا۔












