سعودی عرب: ڈرائیونگ کرتے ہوئے آٹھ سالہ بچے کی ویڈیو منظر عام پر

سعودی عرب

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@EMOROOR

سعودی عرب میں پولیس نے جدہ کے قریب موٹر وے پر گاڑی چلاتے ہوئے آٹھ سالہ بچے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ایک شخص کو حراست میں لے لیا ہے۔

جدہ کی ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ اہلکاروں نے اس گاڑی کو بھی ایک ماہ کے لیے قبضے میں لے لیا ہے۔

اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آٹھ سالہ لڑکا گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہا ہے جبکہ ایک شخص اس کے برابر والی نشست پر بیٹھا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اختتام ہفتہ پر اس ویڈیو کلپ کے وائرل ہونے کے فوراً بعد پولیس حرکت میں آگئی۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اس گاڑی کے مالک پر شدید غصے اور حیرانی کا اظہار کیا۔

بعض کا کہنا تھا کہ وہ ملک کے دیگر حصوں میں ایسے کئی واقعات دیکھ چکے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص نے ویڈیو پوسٹ کی جس میں لڑکے ریاض میں گاڑی چلا رہے ہیں۔

سعودی عرب میں ڈرائیونگ کا معیار بہت برا تصور کیا جاتا ہے اور خلیجی ریاست میں ٹریفک حادثات کی شرح بہت زیادہ ہے۔

صرف 2016 میں پانچ لاکھ 33 ہزار ٹریفک حادثات ریکارڈ کیے گئے جس کے نتیجے میں نو ہزار 31 ہلاکتیں ہوئیں، جو کہ اوسطاً ایک دن میں 25 حادثات بنتے ہیں۔

گذشتہ ماہ سعودی عرب کے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ شاہ سلمان کی جانب سے جون 2018 سے خواتین کے گاڑی چلانے پر پابندی اٹھانے کی وجہ سے حادثات میں کمی ہوگی۔