جاپان میں ایک گھر سے کٹے سر اور جسم کے ٹکڑے برآمد

،تصویر کا ذریعہReuters
جاپان میں دارالحکومت ٹوکیو کے قریب زاما کے ایک اپارٹمنٹ سے پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے جس کے پاس سے نو لاشوں کے کٹے ہوئے اعضا ملے ہیں۔
پولیس کو ایک گمشدہ خاتون کے بارے میں تحقیقات کے دوران ٹاکاشیرو شیرائشی نامی مشتبہ شخص کے فلیٹ کے باہر کولڈ سٹوریج سے دو کٹے ہوئے سر بھی ملے۔
انھوں نے اس شخص کے اپارٹمینٹ سے اس کے علاوہ سات افراد کے جسم کے حصے بھی حاصل کیے جو کہ ٹھنڈے بکسوں میں رکھے ہوئے تھے۔
27 سالہ اس شخص کو لاشوں کو ٹھکانے لگانے کے شبہے میں گرفتار کر لیا گيا ہے۔
جاپانی اخبار مائنیشی شیمبون کے مطابق پولیس کو آٹھ خواتین اور ایک مرد کی لاش کے ٹکڑے ملے ہیں جن میں سے بعض گلنے سڑنے کے مختلف مراحل میں تھے۔
یہ بھی پڑھیے
سرکاری میڈیا این ایچ کے نے میٹروپولیٹن پولیس کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ٹاکاشیرو شیرائشی نے پولیس کو بتایا کہ انھوں نے نو افراد کا قتل کیا اور ان کی لاشوں کو چھپا دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
این ایچ کے کے مطابق اس شخص نے کہا: 'میں نے ان کا قتل کیا اور شواہد چھپانے کے لیے ان کے اجسام کے ساتھ کچھ ایسا کیا کہ وہ مل نہ سکیں۔'
این ایچ کے اور آساہی شیمبون کے مطابق ان کے ایک پڑوسی نے بتایا کہ اگست میں جب سے شیرائشی اس فلیٹ میں آئے ہیں انھیں عجیب سی بو آنے لگی تھی۔
پولیس کو اس عجیب واقعے کا اس وقت پتہ چلا جب وہ 23 سالہ ایک لاپتہ خاتون کی تلاش کر رہے تھے۔ وہ خاتون 21 اکتوبر سے لاپتہ تھیں۔
تفتیش کرنے والوں کو پتہ چلا کہ جب سے لاپتہ خاتون نے انٹرنیٹ پر اپنی خودکشی کے ارادے کے بارے میں لکھا تھا تب سے ہی ٹاکاشیرو شیرائشی ان کے ساتھ رابطے میں تھے۔
منگل کو ان کے اپارٹمنٹ کے پاس ذرائع ابلاغ جمع ہونے لگے جبکہ ان کے پڑوسیوں نے اس واقعے پر صدمے کا اظہار کیا۔
ایک 41 سالہ پڑوسی نے مائنیچی شیمبون کو بتایا: 'یہ رہائشی علاقہ ہے جس کے پاس دیکھ بھال کرنے والا مرکز ہے۔ مجھے یقین نہیں آ رہا ہے کہ ایسے علاقے میں لاشیں ملیں گی۔'










