سیاح جوڑے پر تاج محل کے قریب حملہ

،تصویر کا ذریعہLaxmi Kant
انڈیا میں پولیس کا کہنا ہے کہ سوئٹزر لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے پر تاج محل سے 44 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع فتح پور سیکری کی یادگار کے احاطے میں حملہ کیا گیا۔
ایک سینیئر پولیس افسر نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ضلع آگرہ میں چار افراد نے کوئنٹن جیرمی کلیرک اور میری ڈروز پر ایک بحث کے بعد حملہ کر دیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق کلیرک کے سر کی ہڈی میں فریکچر آیا ہے جبکہ مِس ڈروز کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹی گئی۔
ان دونوں کا دلی کے ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے۔ تاحال اس معملے میں کوئی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔
کلیرک نے انڈین اخبار ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کے بحث اس وقت شروع ہوئی جب ایک شخص نے ان کی تصاویر لینا شروع کر دیں۔
خبر میں پولیس کے حوالے سے لکھا گیا کہ حملہ آوروں نے زبردستی میری ڈروز کے ساتھ سیلفی لینے کی کوشش کی اور ایک گھنٹے تک ان کا پیچھا کرتے رہے۔ جس کے بعد انھوں نے ان پر ڈنڈوں سے حملہ کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آگرہ کے پولیس سپریٹنڈنٹ امت پاٹھک نے کہا مشتبہ افراد کی شناخت کر لی گئی ہے اور انہیں جلد ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ جوڑا پولیس سٹیشن آیا اور ہم انہیں علاج کے لیے ہسپتال لے گئے۔ وہ رپورٹ درج نہیں کروانا چاہتے لیکن ہم پھر بھی ان چاروں آدمیوں کے خلاف کیس درج کریں گے۔‘
انڈیا کی وزیرِ خارجہ سشما سوراج نے جمعرات کو اتر پردیش کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ انہیں اس معاملے کی رپوٹ دیں۔








