قطر میں ’غیر ملکی مزدوروں‘ سے متعلق قوانین میں اصلاحات، پہلی بار کم سے کم اجرت کی حد مقرر

قطر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنقطر میں 15 لاکھ سے زائد غیر ملکی مزدور اور تارکین وطن کام کرتے ہیں

قطر نے’غیر ملکی مزدوروں‘ سے متعلق قوانین میں اصلاحات کا وعدہ کیا ہے جس میں پہلی بار کم سے کم اجرت کی حد مقرر کرنا بھی شامل ہے۔

ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ مجوزہ اصلاحات کو کب نافذ کیا جائے گا۔

قطر کی جانب سے لیبر قوانین میں اصلاحات کا فیصلہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن آئی ایل او کے ایک دن بعد ہونے والے اجلاس سے پہلے آیا ہے۔

آئی ایل او نے پہلے ہی قطر کو غیر ملکی مزدوروں کے استحصال کو روکنے کے حوالے سے متنبہ کر رکھا ہے جبکہ قطر پر حقوق انسانی کی تنظیموں کی جانب سے سنہ 2022 کے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کے سلسلے میں جاری تیاریوں کے دوران غیر ملکی کارکنوں کے حالاتِ کار اور رہائش کے بارے میں خدشات ظاہر کیے جاتے رہے ہیں۔

مزدوروں کی عالمی یونین آئی سی ٹی یو نے قطر کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

آئی سی ٹی یو کے جنرل سیکریٹری شیرن بورو نے کہا ہے کہ تبدیلی نے' حقیقی اصلاحات' اور جدید دور کی غلامی کے دور کو ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے

اقوام متحدہ کی ایجنسی آئی ایل او نے قطر کو غیر ملکی مزدوروں کی حالتِ زار کو بہتر کرنے کے حوالے سے نومبر تک کی مہلت دے رکھی تھی اور کہا تھا کہ اس کے ساتھ غیر معمولی اقدام کے طور پر باضابطہ تحقیقات شروع کی جا سکتی ہیں۔

آئی ایل او کی گورننگ باڈی کا اجلاس چھبیس سے نو نومبر کے درمیان ہو رہا ہے۔

قطر

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سخت اور مشکل حالات کے باعث کئی مزدور ہلاک ہو چکے ہیں

قطر میں ایک عرصے تک غیر ملکی مزدوروں کے لیے کفالہ کانظام رہا ہے جس کے تحت قطر میں کام کرنے والے کسی بھی شخص کو اپنی کمپنی کی اجازت کے بغیر نوکری تبدیل کرنے کے اجازت نہیں تھی جبکہ کوئی کمپنی یہ اجازت نہیں دیتی تھی اور کمپنی کی شرائط پر کام چھوڑنے کی صورت میں آپ کو گھر واپس بھیج دیا جاتا تھا اور آپ دو سال تک قطر کام کی غرض سے واپس نہیں آ سکتے تھے۔

قطری حکام نے دسمبر 2016 میں کفالہ کے نظام کی جگہ غیر ملکیوں کے داخلے اور اخراج کے حوالے سے نیا قانون لاگو کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت دیگر حقوق انسانی کی تنظیموں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس تبدیلی کے باوجود یہ نظام ایسے ہی اپنی جگہ برقرار رہے گا۔

قطر کے بارے میں مزید پڑھیے

آئی سی ٹی یو کا کہنا ہے کہ جن اصلاحات پر اتفاق رائے ہوا ہے ان میں نسل سے بلاتر سب مزدوروں کی کم سے کم اجرت کا تعین، کام دینے والا اپنے ملازمین کو قطر چھوڑنے سے نہیں روک سکے گا۔کاروباری اداروں کی بجائے شناختی دستاویزات ریاست جاری کرے گی۔

ایک سینٹرل اتھارٹی ورک کنٹریکٹ کی شرائط پر نظر رکھے گی تاکہ ملازمت کی طے کردہ شرائط کو سخت شرائط سے تبدیل نہ کیا جا سکے۔ کام کی جگہ پر ملازمین کی کمیٹی بنائی جائے گی جس کے ساتھ شکایت کرنے کا طریقہ کار بھی موجود ہو گا۔

آئی سی ٹی یو کے جنرل سیکریٹری شیرن بوروکا کہنا ہے کہ ابھی اس حوالے سے کافی کچھ کرنے کی ضرورت ہے اور آئی سی ٹی یو اس مسئلے پر بات کرنے کے لیے قطر کے وزیرِ لیبر سے ملاقات کرے گی۔

قطر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

قطر میں ایک اندازے کے مطابق 15 لاکھ غیر ملکی مزدور ہیں جن سے اکثریت کا تعلق ایشیائی ممالک سے ہے اور وہ تعمیراتی شعبے میں کام کرتے ہیں۔

آئی سی ٹی یو کی 2013 کی ایک رپورٹ کے سنہ 2022 کے فٹبال عالمی مقابلوں کے لیے تعمیراتی منصوبوں میں کام کرنے والے کم از کم 12 سو مزدور ہلاک ہوئے ہیں۔

ان اعداد و شمار کی تصدیق کرنا مشکل ہے تاہم بی بی سی کے 2015 کے ایک تجزیے کے مطابق یہ تعداد زیادہ ہو سکتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس کے بعد سے تعداد میں اضافہ ہو گیا ہو۔