خلیجی ممالک کی بلیک مارکیٹ میں گھریلو ملازمین کی خرید و فروخت

ملہازمین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسعودی عرب میں دیگر خلیجی ممالک کی طرح ایشیائی اور افریقی ممالک سے آنے والے ورکز 'کفالہ' نظام کے ذریعے ویزے حاصل کرتے ہیں

خلیجی ممالک میں ملازمین کا معاملہ کئی مرتبہ متنازع رہا ہے اور اب اس حوالے سے بنائے گئے قوانین کی وجہ سے ایک بلیک مارکیٹ وجود میں آ گئی ہے جہاں گھریلو ملازمین کی انٹرنیٹ پر خرید و فروخت کی جاتی ہے۔

بی بی سی ٹرینڈنگ نے متعدد فیس بک گروپس تلاش کیے ہیں جنھیں مقامی قوانین سے بچتے ہوئے اس کام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ان صفحات پر گھریلو ملازمین کو ممکنہ آجروں سے ملانے کے لیے ایسے پیغامات دیکھے جا سکتے ہیں:

’کیا آپ کسی ایسی گھریلو ملازمہ کی تلاش میں ہیں جو وزٹ یا سیاحت کے ویزے پر ہے اور آپ کے پاس رہے؟‘

’جلد ایک گھریلو ملازمہ کی تلاش ہے جو کہ ماہانہ تنخوا کی بنیاد پر ایک، دو یا تین ماہ تک کام کرے۔‘

’دو ماہ ایک بچی کا خیال رکھنے کے لیے انڈین یا فلپائن کی گھریلو ملازمہ کی تلاش ہے۔‘

اگرچہ ان گروپس کے منتظمین صارفین کو مقامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے حوالے سے متنبہ کرتے ہیں۔

یہ صفحات اس بلیک مارکیٹ میں جھانکنے کا ایک موقع ہے۔ اس حوالے سے سعودی عرب میں تحقیقات اور گرفتاریاں بھی ہو چکی ہیں۔

سعودی عرب میں دیگر خلیجی ممالک کی طرح ایشیائی اور افریقی ممالک سے آنے والے ورکز ’کفالہ‘ نظام کے ذریعے ویزے حاصل کرتے ہیں۔ اس نظام میں عموماً ملازمت کی مدت تک ورکز کو ان کے آجر کے ساتھ منسلک کر دیا جاتا ہے۔

ان میں سے زیادہ تر ملازمت مستند ملازمتی ایجنسیوں کے ذریعے ہی حاصل کی جاتی ہے مگر سوشل میڈیا پر ابھرنے والی اس بلیک مارکیٹ کے ذریعے کچھ لوگ قانونی تقاضوں سے بچ جاتے ہیں۔

خطے میں کام کرنے والی ایک تنظیم مائیگرینٹ رائٹس کے وانی سراسواتھی کہتے ہیں ’سوشل میڈیا پر ملازم تلاش کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ درست طریقے کے مقابلے میں یہ بہت زیادہ سستا طریقہ ہے۔‘

ان کے مطابق سوشل میڈیا کے ذریعہ کسی کو ملازمت دیتے وقت آپ کو قانونی طور پر درکار کم سے کم رقم ادا نہیں کرنی پڑتی ہے۔

ایک سعودی سماجی کارکن کا کہنا ہے کہ اس سے ملازمین کو بھی فائدہ ہوتا ہے کیونکہ انھیں ایجنسیوں کی فیس نہیں دینی پڑتی اور ان کی آمدن میں آصافہ ہو سکتا ہے۔

مگر ان کا کہنا ہے کہ اس سے عام لوگوں کے لیے قانونی ملازمین ڈھونڈنا مشکل ہو گیا ہے۔ ملازین کے لیے بہت زیادہ فائدہ اس بات میں ہے کہ وہ ایک مرتبہ ملک میں داخل ہوں اور پھر اپنا معاہدہ ختم کر کے سوشل میڈیا پر غیر قانونی ملازمت ڈھونڈ لیں۔

تاہم تمام آن لائن ملازت دینے والے نظام غیر قانونی نہیں اور دوسری جانب کفالہ نظام کو بھی شدید تنقید کا سامنا ہے۔

انسانی حقوق پر کام کرنے والے کارکنان کا کہنا ہے کہ کفالہ نظام میں ورکز کو انتہائی کم تحفظ حاصل ہے۔

خلیجی ممالک برسوں سے ورکز کو قانونی تحفظات فراہم کرنے کے وعدے کر چکے ہیں۔

گذشتہ ماہ قطر نے نئے قوانین متعارف کروائے ہیں جن میں ہفتے میں کم از کم ایک روز چھٹی اور سالانہ بنیادوں پر تنخواہ سمیت چھٹی شامل ہیں۔ کارکنان کو کہنا ہے کہ اس میں اصل دقت ان قوانین پر عمل درآمد کروانا ہوگا۔

ادھر سعودی حکام کا کہنا ہے کہ انھیں ملازمین کی سوشل میڈیا پر خرید و فروخت کے بارے میں علم ہے اور اس کی روک تھام کے لیے وزارتِ لیبر کوشاں ہے۔