میانمار میں ستائے ہوئے اقلیتی روہنگیا مسلمان

میانمار کی فوج نے سخت مظالم ڈھاتے ہوئے پانچ لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو ملک بدر کرنے پر مجبور کر دیا ہے جہاں وہ رخائن ریاست میں رہائش پزیر تھے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے مطابق ان مسلمانوں کے گھر بار، گاؤں، مویشی جانور اور کھیت تمام نذر آتش کر دیے گئے ہیں تاکہ وہ ملک میں واپس نہ آئیں۔
وہ روہنگیا مسلمان جو ان مظالم سے بچنے کے لیے پڑوسی ملک بنگلہ دیش کی راہ کو نکلے کہتے ہیں کہ میانمار کے حکام نے سیکورٹی نافذ کرنے کے لیے آپریشن کے نام پر شہریوں کا قتل عام کیا اور تشدد اور جنسی پامالی کی۔
دوسری جانب میانمار کی فوج نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا کہ وہ صرف روہنگیا شدت پسندوں کے خلاف کاروائی کر رہے ہیں۔ لیکن وہ روہنگیا جو بے گھر ہیں، ان کے لیے یہ سب صرف لفظوں کا کھیل ہے۔
بنگلہ دیش میں اقوام متحدہ کے تعینات سفیر کے مطابق اکتوبر سے لے کر اب تک چھ لاکھ افراد سرحد عبور کر کے میانمار سے بنگلہ دیش داخل ہو چکے ہیں۔
یہ پناہ گزین بھوک و افلاس کے مارے ہوئے ہیں اور تھکے ہوئے ہیں۔ کئی صدمے کا شکار ہیں اور ان میں سے کئی کے ساتھ بچے بھی ہیں۔
بی بی سی کے فوٹوگرافر سلمان سعید نے بنگلہ دیش میں موجود ان پناہ گزینوں کے مختلف کیمپوں کا دورہ کیا اور تصاویر بنائیں۔ .
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

ان روہنگیا پناہ گزینوں کو ایک ہفتے سے زائد عرصے تک غذا کے بغیر پیدل چلنا پڑا جس کے بعد بالآخر وہ بنگلہ دیش تک پہنچے۔
اپنے ساتھ وہ صرف کچھ کمبل اور بہت کم سامان لا سکے تھے۔

تیرہ سالہ مبین 12 دن پیدل سفر طے کرنے کے بعد محفوظ مقام پر پہنچ سکے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق 'بہت ممکن' ہے کہ میانمار کے سیکورٹی اہلکاروں نے جان بوجھ کر روہنگیا پناہ گزینوں کے پیدل چلنے والے سرحدی راستے میں بارودی سرنگیں نصب کی تھیں جس سے ان کا سفر اور بھی خطرناک ہو گیا تھا۔

ماہرین کے مطابق چند روہنگیا مسلمانوں کو تین ہفتے تک مسلسل چلنا پڑا تھا جس کے بعد وہ بنگلہ دیش میں حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے پناہ گزین کیمپ تک پہنچ سکے تھے۔

میانمار کی رخائن ریاست سے بچنے کے لیے روہنگیا مسلمان ہر طرح کا ذریعہ استعمال کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ سرحد سے متصل دریائے ناف کو عبور کرنے پر مجبور ہیں جبکہ کچھ دوسری راستے استعمال کر رہے ہیں۔.
درجنوں لوگ اب تک اس سفر میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ اخبار ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق 24 اگست سے اب تک 28 کشتیاں ڈوب چکی ہیں جن میں 184 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
جن کشتیوں میں روہنگیا مسلمان دریا عبور کرتے ہیں وہ نہایت خستہ حال اور خطرناک ہوتی ہیں جن میں گنجائش سے زیادہ افراد کو بٹھانے سے ان کی جانیں شدید خطرے سے دوچار ہوتی ہیں اور ان میں سے کئی کو تو پیراکی بھی نہیں آتی۔

یہ شخص، ابو طابل بنگلہ دیش اپنے ساتھ بہت تھوڑا سامان ساتھ لا سکا۔
رخائن سے یہاں تک کے سفر میں اس کا ساتھ صرف اس کی پنجرے میں بند مرغی نے دیا۔

جب یہ افراد پناہ گزینوں کے کیمپ میں پہنچتے ہیں تو اپنے لیے خود رہنے کا انتظام کرتے ہیں۔
کاکس بازار میں قائم اس کیمپ کی حالت زار ہے۔ وہ کیچڑ سے بھرا ہوا ہے اور لوگوں سے بھرا ہوا ہے اور یہاں صاف پینے کا پانی بھی میسر نہیں ہے۔ صفائی ستھرائی کا نظام نہ ہونے کے برابر ہے اور بارشوں کی وجہ سے زندگی مزید دشوار ہو گئی ہے۔
بہت سے پناہ گزینوں کے رشتے دار پہلے سے کاکس بازار کے کیمپ میں موجود ہیں جو میانمار میں گذشتہ چند برسوں میں روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کے بعد جان بچانے کے لیے بنگلہ دیش بھاگ گئے تھے۔



اس سال 16 اکتوبر کو انٹرنیشنل ریڈ کراس تنظیم نے کاکس بازار میں 60 بستروں پر مشتمل ایک ہسپتال قائم کیا ہے جو دو فٹبال گراؤنڈ کے برابر ہے۔
یہ نو عمر روہنگیا لڑکا دوسروں کے مقابلے میں زیادہ خوش قسمت ہے کیونکہ اسے کچھ طبی امداد مل چکی ہے۔ .

بنگلہ دیش کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کے لیے پناہ گزین کیمپ قائم کریں گے جہاں 80000 روہنگیا کو رہنے کی جگہ میسر ہو سکے گی۔
یہ اپنی نوعیت کا دنیا کا سب سے بڑا کیمپ ہوگا۔ .

اس خاندان کی تصاویر اس وقت لی گئیں جب ان کو کئی دن کے بعد کھانا میسر ہوا۔
میانمار سے جان بچا کر بھاگنے والوں کے مطابق رخائن ریاست میں کھانے کی قلت کی وجہ سے ان کو بھاگنا پڑا تھا کیونکہ وہاں موجود کھانے کی دکانیں بند کر دی گئی تھیں۔.

نو ماہ کی حاملہ رسیدہ ان ہزاروں خواتین میں شامل ہیں جو حاملہ ہیں اور کسی بھی وقت اولاد کو جنم دے سکتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق کیمپوں میں ڈیڑھ لاکھ کے قریب خواتین موجود ہیں جو ماں بننے کی عمر میں ہیں۔ ان میں سے 24000 خِواتین حاملہ ہیں اور ان کے پاس روڈ پر اولاد جنم دینے کے علاوہ اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

17 اکتوبر کو اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ ہزاروں روہنگیا مسلمان ابھی بھی بنگلہ دیش اور میانمار کی سرحد پر پھنسے ہوئے ہیں۔
انھوں نے بنگلہ دیش پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد ان متاثرہ افراد کو ملک میں لائیں تاکہ ان کی امداد کی جا سکے۔

روہنگیا مسلمانوں کا یہ انخلا اب بھی جاری ہے اور لاکھوں کی تعداد میں پناہ گزین بنگلہ دیش داخل ہو رہے ہیں۔


تمام تصاویر سلمان سعید نے بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں کھینچی ہیں۔








