جاپان انتخابات: حکمراں اتحاد ’یقینی کامیابی‘ کے راستے پر

،تصویر کا ذریعہEPA
جاپان میں ایگزٹ پولز کے مطابق وزیراعظم شنزو آبے کا حکمراں اتحاد اتوار کو ہونے والے عام انتخابات میں یقینی کامیابی کی جانب گامزن نظر آرہا ہے۔
ایک پول کے مطابق وزیراعظم آبے کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے اتحاد نے 311 نشتیں حاصل کر کے اپنی دو تہائی 'اکثریت' برقرار رکھی ہے۔
لیکن دیگر پولز کے مطابق یہ اتحاد ابھی دو تہائی اکثریت سے کچھ نیچے ہے۔
شمالی کوریا کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظر میں اتوار کو جاپان میں ہونے والے قبل از وقت انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔
قبلِ از وقت انتظابات کا فیصلہ وزیرِ اعظم شنزو آبے نے ملک میں سوشل سکیورٹی کے نظام کو دوبارہ متوازن کرنے کے پیش نظر مینڈیٹ حاصل کرنے کے لیے کیا تھا۔
مقامی وقت کے مطابق پولنگ صبح سات بجے سے شروع ہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگر ان انتخابات میں صدر آبے دوبارہ منتخب ہو جاتے ہیں تو وہ جنگ کے بعد جاپان کے سب سے زیادہ مدت تک حکمرانی کرنے والے رہنما بن جائیں گے۔
ایک مبصر کے مطابق لوگوں کے سامنے آبے کے لیے ووٹنگ کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
آبے کو امید ہے کہ ان کی جماعت دو تہائی اکثریت حاصل کر کے آئینی اصلاحات کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ خاص طور پر وہ جاپان کی دفاعی فورسز کو تبدیل کر کے قومی فوج بنائیں گے۔ ایسا دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی مرتبہ کیا جائے گا۔
شنزو آبے نے 25 ستمبر کو انتخابات کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ جاپان کو درپیش قومی بحران کے باعث انہیں تازہ مینڈیٹ کی ضرورت ہے۔
اس بحران میں شمالی کوریا کی دھمکی بھی شامل ہے جس نے جاپان کو سمندر میں ڈبونے کی دھمکی دے رکھی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
انتخابات میں زیرِ بحث مسائل میں فوکو شیما کے حادثے کے بعد جوہری پالیسی اور ٹیکس کے مسائل شامل ہیں۔
وزیر اعظم آبے نے پارلیمنٹ تحلیل کرنے کے بعد اراکین پارلیمنٹ کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’سخت مقابلہ ہوگا لیکن ہم جاپان کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہاں کے لوگ پرامن طور پر رہ سکیں۔‘
شنزو آبے سنہ 2012 سے اقتدار میں ہیں اور وہ اپنی شبیہہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ انتخاب کروا رہے ہیں۔










