دس ممالک جہاں لڑکیوں کا سکول جانا مشکل

،تصویر کا ذریعہUnicef
امیر ممالک میں سکولوں کے حوالے سے بحث کے موضوعات میں اہم ہوتا ہے کہ کس مضمون کو زیادہ اہمیت دی جائے، کس میں طلبا کو زیادہ مدد کی ضرورت ہے اور کس میں زیادہ وسائل لگانے چاہیئں۔ لیکن ترقی پذیر ممالک میں سوال انتہائی بنیادی ہوجاتا ہے کہ کیا بچوں کو سکولوں تک رسائی بھی حاصل ہے یا نہیں۔
اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ ایک دہائی میں دنیا کے غریب ترین ممالک میں سکولوں کی کمی کے مسئلے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
ایک دوسری رپورٹ میں معیارِ تعلیم کے بارے میں بتایا گیا کہ 60 کروڑ بچے سکول تو جاتے ہیں لیکن وہاں کچھ سیکھتے نہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شورش زدہ علاقے
دس ممالک میں سے بیشتر میں لڑکیوں کے سکول نہیں ہیں۔
ان بدحال ممالک میں کئی خاندان غریب ہیں یا ان کی صحت خراب ہے، یا پھر وہ غذائیت کی کمی اور جنگ یا لڑائی کی وجہ سے بے گھر ہیں۔
کئی نوجوان لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے جانے کے بجائے کام کرنا پڑتا ہے۔ کئی کی کم عمری میں شادی کر دی جاتی ہے جس کے بعد تعلیم کے مواقع ختم ہو جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس فہرست کے تیارے کرنے میں جن باتوں کا خیال رکھا گیا ان میں
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
- پرائمری تک تعلیم سے محروم لڑکیوں کی تعداد
- سیکنڈری تک تعلیم سے محروم لڑکیوں کی تعداد
- پرائمری تک تعلیم مکمل کرنے والی لڑکیوں کی تعداد
- سیکنڈری تک تعلیم مکمل کرنے والی لڑکیوں کی تعداد
- سکول جانے والی لڑکیوں کی اوسط تعداد
- ناخواندہ خواتین کی شرح
- اساتذہ کی تربیت کا معیار
- طلبا کی تعداد کے حساب سے مطلوب اساتذہ کی تعداد
- تعلیم پر خرچ کیے جانے والے وسائل
بعض ممالک جیسا کے شام کے حوالےسے قابلِ بھروسہ اعداد و شمار نہیں ملے۔
لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مشکل ترین ممالک:
جنوبی سوڈان
حال ہی میں معرضِ وجود میں آنے والے جنوبی سوڈان کو جنگ اور تشدد کا سامنا ہے۔ یہاں سکولز تباہ کر دیے گئے اور لوگوں کو جبراً بے گھر کیا گیا۔ لگ بھگ 75 فیصد لڑکیاں پرائمری تک تعلیم مکمل نہیں کر سکیں۔
سنٹرل افریقن رپبلک (سی اے آر)
یہاں 80 بچوں کے لیے ایک استاد ہے۔
نائجر
نائجر میں 17 سے 24 سال کی خواتین میں سے صرف 17 فیصد تعلیم یافتہ ہیں۔
افغانستان
افغانستان میں لڑکیوں کی نسبت سکول جانے والے لڑکوں کی تعداد زیادہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہUnicef
چاڈ
اس افریقی ملک میں لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں متعدد معاشی اور معاشرتی رکاوٹیں حائل ہیں
مالی
صرف 38 فیصد لڑکیوں نے پرائمری تک تعلیم مکمل کی۔
گنی
گنی میں 25 سال سے زائد عمر کی خواتین اوسطاً ایک برس تک تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
برکینا فاسو
صرف ایک فیصد لرکیوں نے سیکنڈری تک تعلیم مکمل کی۔
لائبیریا
پرائمری تک تعلیم حاصل کرنے کی عمر کے دو تہائی بچے سکولوں سے باہر ہیں۔
ایتھیوپیا
ہر پانچ میں سے دو لڑکیوں کی شادی 18 سال سے کم کی عمر میں کر دی گئیگ
اساتذہ کی کمی تمام غریب ممالک میں عام ہے۔ گذشتہ برس اقوامِ متحدہ کا کہنا تھا کہ دنیا بھی میں تعلیم کے حوالے سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کے لیے کم سے کم چھ کروڑ 90 لاکھ اساتذہ بھرتی کیے جانے کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر لڑکیوں کو بھی تعلیم فراہم کی جائے تو اس کے اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے۔









