کیا خواتین کی تعلیم سے بچوں کی ویکسینیشن کو بڑھاوا ملے گا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاریخی طور پر خواتین کی خود مختاری کو ان کی تعلیم سے منسلک کیاجاتا ہے۔ تعلیم یافتہ ہونے سے صرف ان کا ہی بھلا نہیں ہوتا بلکہ ان کے بچوں کا مستقبل بھی سنور جاتا ہے۔
ترقی پذیر ممالک میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق ماں کی تعلیم کا بچوں کو پولیو، خناق، تشنج، کالی کھانسی، خسرہ اور ٹی بی جیسے قابل انسداد امراض سے بچاؤ کے لیے ٹیکے لگائے جانے کے ساتھ مضبوط تعلق پایا گیا۔
لگائے جانے والے تخمینوں کے مطابق پانچ برس سے کم عمر کے بچوں کی ایک چوتھائی اموات موجودہ دور میں دستیاب ویکسین کی مدد سے روکی جا سکتی ہیں۔
ترقی پذیر ممالک: زیادہ تعلیم کا مطلب زیادہ ویکسینیشن
جنوبی افریقہمیں پانچ برس سے کم عمر کے بچوں کی ہلاکتوں میں کمی نہیں آئی ہے۔
نائجیریا میں حفاظتی ٹیکوں پر حالیہ تجزیوں سے معلوم ہوا ہے کہ غیر تعلیم یافتہ ماؤں کے صرف چھ فیصد بچوں کو ہی ٹیکے لگائے گئے جبکہ کل آبادی کے چوبیس فیصد بچوں کو ٹیکے لگائے جا رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دنیا بھر میں کم آمدنی والے ملکوں میں تصویر تقریباً ایک جیسی ہے۔
انڈیا میں ہونے والی تازہ تحقیق میں بھی سامنے آیا کہ اگر ماں تعلیم یافتہ ہو تو اس بات کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں کہ بچوں کو سبھی ضروری ٹیکے لگائے جائیں۔
ان پڑھ ماؤں کے مقابلے میں کم پڑھی لکھی ماؤں کی بھی بڑی تعداد نے اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوائے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ترقی پذیر ممالک میں ہونے والی تحقیق میں دیگر وجوہات پر بھی زور دیا گیا۔ جو مائیں پڑھی لکھی ہوتی ہیں وہ بہتر زندگی گزارتی ہیں اور ایسے علاقوں میں رہتی یں جہاں بچوں کی صحت سے متعلق زیادہ سہولیات دستیاب ہوتی ہیں۔
لیکن جہاں تک بات معاشی حالات اور تعلیم کی ہے، یونیسکو کی 2015 کی رپورٹ کہتی ہے کم آمدنی والے ممالک میں خواتین کو کم ازکم سکینڈری تعلیم دینے سے بھی فرق پڑے گا۔ ایسا کرنے سے 10 میں سے چار سے زیادہ بچوں کو خناق، تشنج، اور کالی کھانسی کے ٹیکے لگنے کے امکان ہو سکتے ہیں۔
ترقی یافتہ ممالک میں الٹا رحجان
ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم اور بچوں کی ویکسینیشن کے درمیان الٹا رحجان سامنے آیا ہے۔
امریکہ میں سنہ 2003 میں 11,860 بچوں پر ہونے والی تحقیق کے مطابق جن ماؤں کے پاس 12 برس سے کم تعلیم تھی ان کے بچوں کو کالج کی ڈگری یافتہ ماؤں کے بچوں کے مقابلے ویکسینیش ملنے کے زیادہ معاملے سامنے آئے۔
محققین یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ ایسا کیوں ہے لیکن انھوں نے یہ ضرور کہا کہ جس طبقے کو امریکہ میں کم رسمی تعلیم حاصل ہے ان میں بچوں کی ضروریات کو پورا کرنے کا ثقافتی رحجان زیادہ ہے۔
ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کم آمدنی والی مائیں صحت سے متعلق حکومتی منصوبوں کا استعمال کرتی ہیں جہاں انہیں یہ معلومات دستیاب ہوتی ہے۔
سنہ 2016 میں لندن سکول آف ہائجین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن نے ویکسینیشن پر ایک عالمگیر سروے کیا۔ یہ سامنے آیا کہ ترقی یافتہ ملکوں میں جہاں خواتین کو اعلیٰ تعلیم حاصل ہے ،خاص کر یورپ میں، ویکسینیشن کی طرف رحجان کم ہے۔
کچھ حد تک اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ تعلیم یافتہ والدین اپنی نجی تحقیق کی بنیاد پر حکومت اور صحت سے متعلق منصوبوں کو چیلینج کرنے میں زیادہ پراعتماد ہوتے یں۔
اس کے علاوہ بیشتر معاملوں میں انہیں قابل انسداد مرض سے بچے کی موت کے ذاتی تجربہ ہونے کے بھی کم امکان ہوتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کئی یورپی ممالک میں اس سال خسرے کے دوبارہ لوٹنے کی وجہ والدین کا بچوں کو ایم ایم آر ٹیکے لگوانے سے انکار ہے۔ کئی لوگ ایک غیر معتبر تحقیق پر یقین کرتے ہیں جس کے مطابق اس ویکسین سے بچوں میں آٹزم اور کرونز مرض کا خطرہ ہے۔
فرانس میں ہیپاٹائٹس بی اور ایچ پی وی ویکسین کے سائڈ ایفیکٹ پر تنازع کی وجہ سے وہاں کے لوگوں کا اس ویکسین کے بارے میں منفی رحجان ہے۔
اٹلی میں اسٹیبلشمینٹ کے خلاف فائیو سٹار موومینٹ کے رہنما نے ماضی میں ویکسینیشن کے خلاف شک کا اظہار کیا تھا۔
وہکسینیشن کی طرف منفی رویہ رکھنے والے تعلیم یافتہ والدین کو راضی کرنے کی کوششیں جتنا سوچا گیا تھا اس سے زیادہ مشکل ثابت ہو رہی ہیں۔
یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے محققین نے کے مطابق برطانیہ میں جس عوامی صحت کی مہم کی مدد سے اس سوچ کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ویکسینیشن سے آٹزم کا خطرہ ہے، اس مہم کا الٹا ہی اثر ہو رہا ہے۔ والدین کی ان فرضی باتوں پر یقین کرنے کے اور زیادہ امکان پیدا ہو رہے ہیں۔







