ملاوی: ’انسانی خون پینے کے شبہے میں پانچ ہلاک‘

ملاوی صدر

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنملاوی کے صدر پیٹر موتھریکا نے ان ہلاکتوں کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے

براعظم افریقہ کے ملک ملاوی میں پانچ افراد کو انسانوں کا خون پینے کے شبہے میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔

ملک کے جنوبی حصے میں ایسے 'خون آشام' افراد کے بارے میں افواہیں پھیلنے کے بعد اقوام متحدہ نے دو اضلاع سے اپنے عملے کے ارکان کو نکل جانے کے لیے کہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مرنے والے افراد ایک مشتعل ہجوم کا نشانہ بنے جس نے ان پر کالا جادو کرنے اور اس دوران انسانی خون پینے کا الزام لگایا تھا۔

حکومت کی جانب سے مزید ہلاکتوں کو روکنے کے پیش نظر رات کے وقت کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

کرفیو کے دوران دن میں صرف صبح سات بجے سے شام پانچ بجے تک ہی باہر نکلنے کی اجازت ہوگی۔

اقوام متحدہ کا ایک رپورٹ میں کہنا تھا کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسانی خون پینے والوں کے بارے میں افواہیں موزمیبیق سے شروع ہوئیں اور سرحد پار ملاوی کے اضلاع فالموبے اور مولانجے تک پھیل گئیں۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ آخر یہ خوف و ہراس کیسے پھیلا لیکن خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دیہاتیوں نے 'انسانی خون پینے والوں' کو پکڑنے کے لیے سڑک پر ناکہ بندی کر رکھی تھی۔

اسی بنا پر اقوام متحدہ نے اپنے عملے کے ارکان کو کسی محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔

ملاوی کے صدر پیٹر موتھریکا نے ان ہلاکتوں کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ 'یہ معاملہ ساری حکومت کے لیے انتہائی باعث تشویش ہے۔'

خیال رہے کہ ملاوی دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک ہے اور یہاں کئی امدادی ادارے اور غیر سرکاری تنظیمیں کام کرتی ہیں۔

یہاں معیارِ تعلیم بہت پست ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد جادو ٹونے پر یقین رکھتی ہے۔ سنہ 2002 میں بھی یہاں ایسی ہی افواہوں کے بعد پرتشدد واقعات پیش آئے تھے۔