’کاتالونیہ کی سپین سے آزادی کا اعلان دنوں کی بات ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کاتالان کے رہنما کارلس پوئیمونٹ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کاتالونیہ کی سپین سے آزادی کا اعلان دنوں کی بات ہے۔
اتوار کو ہونے والے ریفرینڈم کے بعد پہلا انٹرویو دیتے ہوئے کارلس پوئیمونٹ نے کہا کہ ان کی حکومت اس بارے میں 'رواں ہفتے کے اختتام پر یا نئے ہفتے کے آغاز پر فیصلہ کرے گی۔'
دریں اثنا سپین کے بادشاہ نے ملک کی حالت کو 'انتہائی سنجیدہ' قرار دیتے ہوئے اتحاد پر زور دیا ہے۔
ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے سپین کے بادشاہ کا کہنا تھا کہ کاتالونیہ کے جن رہنماؤں نے یہ ریفرینڈم منعقد کروایا انھوں نے 'ریاست کی طاقت کی بے عزتی کی۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سپین کے بادشاہ کے مطابق 'انھوں نے قانون کی حکمرانی کے جمہوی اصولوں کو توڑا۔'

،تصویر کا ذریعہEPA
دوسری جانب کاتالونیہ میں ہزاروں افرادگذشتہ اتوار کو کاتالونیہ کی سپین سے آزادی کے بارے میں ریفرینڈم کے دوران پولیس کی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
ہسپانوی پولیس کی جانب سے ووٹنگ کے دوران کیے جانے والے تشدد میں کم سے کم 900 افراد زخمی ہوئے تھے جن میں 33 پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔
کارلس پوئیمونٹ نے بی بی سی کو انٹرویو میں کہا کہ ان کی حکومت اس بارے میں 'رواں ہفتے کے اختتام پر یا نئے ہفتے کے آغاز پر فیصلہ کرے گی۔'
جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر سپین کی حکومت مداخلت کر کے کاتالونیہ کی حکومت کا کنٹرول سنھبال لیتی ہے تو وہ کیا کریں گے تو ان کا کہنا تھا کہ 'یہ ایک ایسی غلطی ہو گی جو سب کچھ بدل دے گی۔'
کارلس پوئیمونٹ نے کہا کہ فی الحال میڈرڈ کی حکومت اور ان کی باضابطہ انتظامیہ کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
انھوں نے یورپی کمیشن کی جانب سے پیر کو جانے کیے جانے والے اس بیان سے بھی اتفاق نہیں کیا کہ کاتالونیہ میں جاری واقعات سپین کا اندرونی معاملہ ہیں۔
کاتالونیہ سپین کا شمال مشرقی علاقہ ہے اور اس کی زبان اور ثقافت باقی ملک سے مختلف ہے۔ اس کی آبادی 75 لاکھ ہے۔ یہ باقی سپین کے مقابلے میں نسبتاً مالدار علاقہ ہے اور اسے کافی حد تک خود مختاری حاصل ہے تاہم سپین کے آئین کے مطابق یہ علیحدہ ملک نہیں ہے۔
خیال رہے کہ کاتالونیہ میں اتوار کو ہونے والے ریفرینڈم کے دوران تشدد کے نتیجے میں سینکڑوں افراد زخمی ہوئے تھے۔
حکام کے مطابق اتوار کو ہونے والی پولنگ میں 90 فیصد ووٹرز نے آزادی کے حق میں فیصلہ دیا۔
سپین کی مرکزی حکومت نے اس ریفرینڈم کو روکنے کا عہد کیا تھا اور ملک کی اعلیٰ ترین آئینی عدالت نے بھی اسے غیر قانونی قرارد دیا تھا۔









