پولیس کے خلاف احتجاج سے نظام زندگی معطل

،تصویر کا ذریعہAFP
مرکزی بارسلونا میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور انہوں نے نہ صرف بارسلونا بلکہ کاتالونیہ بھر میں سڑکیں بند کر دی ہیں۔
یہ مظاہرین گزشتہ اتوار کو کاتالونیہ کی سپین سے آزادی کے بارے میں ریفرینڈم کے دوران پولیس کی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
کاتالونیہ کی ٹریڈ یونینوں کی جانب سے منگل کو کی جانے والے ہڑتال کے نتیجے میں پورے خطے میں ٹرانسپوٹ کا نظام متاثر ہوا ہے۔
آج کاتالونیہ بھر میں چھوٹے کاروبار بند رہے۔ سکول، یونیورسٹیاں اور طبی سروسز یا تو بند رہیں یا ان کی سرگرمیاں بہت محدود رہیں۔
بارسلونا کی زیر زمین ٹرینوں کی سروس رش کے وقت صرف 25 فیصد تک محدود رہیں جبکہ عام اوقات میں مکمل طور پر بند رہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اتوار کو ہونے والے ریفرینڈم کے دوران تشدد میں سینکڑوں افراد زخمی ہوئے تھے۔
اتوار کو 90ۙ فیصد ووٹرز نے آزادی کے حق میں فیصلہ دیا ہے جبکہ ووٹنگ کی شرح 42.3 فیصد رہی تھی۔
ریفرینڈم کے موقع پر سپین کی پولیس نے ووٹنگ کو روکنے کی کوشش کی جس کے دوران 900 کے لگ بھگ افراد زخمی ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپین کی حکومت نے اس ریفرینڈم کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ سپین کے وزیراعظم ماریانو راجوئے نے کہا تھا کہ کاتالونیہ کے لوگوں کو بیوقوف بنا کر ایک غیر قانونی ووٹ میں شریک کروایا گیا۔ انھوں کہا تھا کہ یہ جمہوریت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
اتوار کو ہونے والے تشدد کے دوران کچھ پولیس اہلکاروں کو ربر کی گولیاں بھی چلاتے ہوئے دیکھا گیا۔ پولیس نے کئی پولنگ سٹیشنوں پر دھاوا بول دیا اور خواتین کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا۔ تاہم تشدد کے نتیجے میں 33 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
منگل کو ٹریڈ یونین کے ذرائع کے مطابق بارسلونا کی بندرگاہ بند پڑی ہے جبکہ پچاس سے زیادہ مقامات پر سڑکیں بند کیے جانے کی وجہ سے پورے علاقے میں ٹریفک پھنس کر رہ گئی ہے۔ لیکن شہر کا ایئرپورٹ بدستور کام کر رہا ہے۔
کاتالونیہ سپین کا شمال مشرقی علاقہ ہے اور اس کی زبان اور ثقافت باقی ملک سے مختلف ہے۔ اس کی آبادی 75 لاکھ ہے۔ یہ باقی سپین کے مقابلے میں نسبتاً مالدار علاقہ ہے اور اسے کافی حد تک خود مختاری حاصل ہے تاہم سپین کے آئین کے مطابق یہ علیحدہ ملک نہیں ہے۔









