سعودی عرب کی دھمکی، یمن انکوائری کی قرارداد کا مسودہ تبدیل

سعودی عرب، یمن، اقوام متحدہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنیہ واضح نہیں کہ معروف ماہرین سے تحقیقات پر سعودی عرب راضی ہے یا نہیں

اقوام متحدہ کے تحت یمن میں مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے نیدرلینڈز نے جمعرات کے روز تحقیقات کی مجوزہ قرارداد کا نظر ثانی شدہ مسودہ پیش کر دیا ہے تاکہ سعودی عرب کی رضامندی حاصل کی جا سکے۔

یہ نظر ثانی شدہ مسودہ ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب قرارداد پر آج ووٹنگ کی جائے گی۔

نیدرلینڈز نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں جو نظر ثانی شدہ مسودہ جمع کرایا ہے کہ اسے جمعے کے روز ہونے والی بحث سے قبل تقسیم کر دیا جائے گا۔ اس میں 'معروف ماہرین کے بین الاقوامی گروپ' سے انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس سے قبل نیدرلینڈز نے ’بین الاقوامی انکوائری کمیشن‘ کی تشکیل کا مسودہ پیش کیا تھا جو کہ اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق ہے۔

سعودی عرب، یمن، اقوام متحدہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسعودی عرب اور اس کے اتحادی یمن میں ایران حامی حوثی تحریک کے حامیوں پر بمباری کرتا رہا ہے

یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ معروف ماہرین سے تحقیقات پر سعودی عرب آمادہ ہے یا نہیں۔ سعودی عرب نے گذشتہ برسوں کے دوران اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کو اس بات پر راضی کر لیا تھا کہ یمن کے اندر سے کی جانے والی تحقیقات زیادہ موزوں رہیں گی۔

سعودی عرب اور اس کے اتحادی یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک کے حامیوں پر بمباری کرتا رہا ہے۔ اس سلسلے کا آغاز سنہ 2015 میں اس وقت شروع ہوا جب حوثیوں نے یمن کے شمالی حصے پر قبضہ کرنا شروع کیا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ زید رعد الحسین نے ادارے کے 47 ارکان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ جنگ کی آزاد تحقیقات کرائیں گے جس میں ہزاروں افراد مارے گئے، یمنی معیشت تباہ ہو گئی اور لاکھوں افراد قحط کے دہانے پر پہنچ گئے۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس کا فوجی اتحاد دہشت گردوں کے خلاف لڑ رہا ہے اور یمن کی اصل حکومت کی مدد کر رہا ہے۔ لیکن زید رعد الحسین کے دفتر کا کہنا ہے کہ سعودی قیادت میں بننے والے فوجی اتحاد کے فضائی حملوں سے ہلاک ہونے والوں میں اکثریت شہریوں کی ہے۔

سعودی عرب، یمن، اقوام متحدہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنریاض کا کہنا ہے کہ اس کا فوجی اتحاد دہشت گردوں کے خلاف لڑ رہا ہے

یمن میں شہریوں کی ہلاکت پر بننے والے سعودی اتحاد کے ایک تحقیقاتی پینل کا کہنا ہے کہ اس کے زیادہ تر فضائی حملے درست تھے۔

فرانس کا دباؤ

نیدرلینڈز کی جانب سے جمع کرائے جانے والے مسودے کے بعد فرانس نے سمجھوتے کے لیے دباؤ ڈالا ہے جو خود ابھی کونسل کا رکن نہیں ہے۔

فرانس کی وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا ہے: 'ہم خاص طور پر یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تحقیقاتی طریقہ کار کے بین الاقوامی رخ کو محدود کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔'

سعودی عرب، یمن، اقوام متحدہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنیمن میں شہریوں کی ہلاکت پر بننے والے سعودی اتحاد کے ایک تحقیقاتی پینل کا کہنا ہے کہ اس کے زیادہ تر فضائی حملے درست تھے

فرانس کا یہ بیان برطانیہ اور امریکہ کے لیے ایک پیغام ہے جو اس معاملے میں ایک قرارداد پر اتفاق چاہتے ہیں۔

سعودی دباؤ

یاد رہے کہ سعودی عرب نے یمن میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے متعلق بین الاقوامی جانچ کی ایک مجوزہ قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ممالک کے خلاف اقتصادی اقدامات کی دھمکی دی تھی۔

سعودی عرب، یمن، اقوام متحدہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنیمن میں مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے قرارداد مشترکہ طور پر نیدرلینڈز اور کینیڈا نے جمع کرائی تھی

یمن میں مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے قرارداد مشترکہ طور پر نیدرلینڈز اور کینیڈا نے جمع کرائی تھی جس میں مکمل تحقیقاتی کمیشن کی درخواست کی گئی تھی۔

جنیوا میں تعینات سعودی سفیر نے اب تک کے مذاکرات پر رد عمل ظاہر کرنے سے انکار کیا تھا۔