یمن میں سعودی اتحادیوں کے خلاف احتجاج

یمن میں سعودی اتحاد کے حملے کے بعد صنعا میں حکومت مخالف باغیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

یمن

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنقوامِ متحدہ کے مطابق سنیچر کو یمن کے دارالحکومت صنعا میں ایک جنازے کے اجتماع پر ہونے والے فضائی حملے میں 140 سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ 500 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔
یمن

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشناس حملے کے خلاف صنعا میں حکومت مخالف باغیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
یمن

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنسعودی عرب نے حوثی باغیوں کے اس الزام کو مسترد کر دیا تھا کہ یمن میں حوثی وزیرِ داخلہ گلال الرویشان کے والد کی نماز جنازہ پر فضائی حملہ اس نے کیا ہے۔
یمن

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنیمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح نے یمن میں سعودی اتحادیوں کی بمباری کے بعد یمن کی سکیورٹی فورسز اور ملیشیا سے کہا ہے کہ اس 'خونی حملے' کا بدلہ لینے کے لیے سعودی عرب کی سرحد کی پر جمع ہو جائیں۔
یمن

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنعبداللہ صالح کو مسلح افواج کے ان اہکاروں کی حمایت حاصل ہے جنھوں نے نئی حکومت کے خلاف بغاوت کی اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی حمایت حاصل ہے۔
یمن

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنیاد رہے کہ عبداللہ صالح کو 2012 میں اس وقت اقتدار چھوڑنا پڑا جب ملک بھر میں احتجاج شروع ہو گئے اور سعودی عرب کے حمایت یافتہ امن مذاکرات کا آغاز ہوا۔
یمن

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشندوسری جانب برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے یمنیوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔