روہنگیا بحران: ’میانمار سرحد پر باردوی سرنگیں لگا رہا ہے‘

میانمار

،تصویر کا ذریعہREUTERS

بنگلہ دیش نے ڈھاکہ میں میانمار کے سفیر کو بلا کر دونوں ملکوں کی سرحد پر بارودی سرنگیں نصب کرنے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

حالیہ دنوں میں دنوں ملکوں کے تعلقات میں روہنگیا مسلمانوں کے معاملے پر کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے۔

بنگلہ دیش کے ایک سینیئر اہلکار نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ میانمار کی فوج روہنگیا پناہ گزینوں کو ان کے دیہات میں واپس لوٹنے سے روکنے کے لیے باردوی سرنگیں نصب کر رہی ہے۔

تاہم میانمار کے فوجی ذرائع نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں کوئی باردوی سرنگیں نصب نہیں کی گئیں۔

بنگلہ دیش میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار سنجے موجمدار کے مطابق اس ہفتے بارودی سرنگوں سے کم از کم تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اس سوال کے جواب پر کہ آیا بنگلہ دیش نے اس سلسلے میں باضابطہ شکایت درج کروائی ہے، بنگلہ دیش کے خارجہ سیکریٹری شاہد الحق نے صرف اتنا کہا 'ہاں۔‘ البتہ انھوں نے مزید تفصیلات نہیں دیں۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ 25 اگست کے بعد سے روہنگیا پناہ گزینوں کی بنگلہ دیش ہجرت کے سلسلے میں تیزی آئی ہے۔

اس کے مطابق ڈیڑھ لاکھ کے قریب روہنگیا میانمار کی شمال مغربی ریاست رخائن میں جاری تشدد کی وجہ سے بھاگنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

اس بحران کا آغاز اس وقت ہوا جب روہنگیا جنگجوؤں نے پولیس چوکیوں پر حملے کر متعدد پولیس اہلکاروں کو مار ڈالا۔ اس کے بعد میانمار کی فوج نے روہنگیا کے خلاف آپریشن شروع کر دیا۔

بنگلہ دیشی حکومت کے دو ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ان کے خیال کے مطابق میانمار نے سرحد پار کرنے والے پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کے باوجود سرحد پر تازہ بارودی سرنگیں نصب کی ہیں۔

اس علاقے میں 1990 کی دہائی کے دوران غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے والوں کو روکنے کے لیے باردوی سرنگیں لگائی گئی تھیں۔

سوموار کو میانمار کی فی الحقیقت رہنما آنگ سان سو چی کے ترجمان نے اس بات پر سوال اٹھایا کہ سرنگیں کس نے لگائی ہیں۔ انھوں نے کہا: 'کون یقین سے کہہ سکتا ہے کہ یہ باردوی سرنگیں دہشت گردوں نے نہیں لگائیں؟'

،ویڈیو کیپشنمیانمار سے بنگلہ دیش جانے والے روہنگیاؤں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے

سو چی کا دعویٰ ہے کہ یہ بحران جعلی خبروں کی وجہ سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔

ان کے دفتر کے مطابق انھوں نے یہ بات ترک صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت کے دوران کہی۔

بدھ کو صدر اردوغان نے کہا کہ ترکی روہنگیا مسلمانوں کی مدد کے لیے دس ہزار ٹن امدادی اشیا بھیج رہا ہے۔

انڈونیشیا بھی روہنگیا کی مدد کر رہا ہے، تاہم بعض ملکوں، بشمول بنگلہ دیش پر تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہے۔

بنگلہ دیش نے اس سے قبل روہنگیا کو پناہ گزین ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے الزام لگایا تھا کہ وہ ان لوگوں کو سرحد سے واپس میانمار بھیج رہا ہے جہاں ان کا مستقبل غیر یقینی ہے۔