’روہنگیا بحران سے پورا خطہ غیر مستحکم ہو سکتا ہے‘

روہنگیا

،تصویر کا ذریعہAFP

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے منگل کے روز میانمار کی حکومت سے اپیل کی کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد بند کر دیں، اور خبردار کیا کہ اس سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔

گوتیرش نے کہا کہ میانمار کی بےوطن روہنگیا اقلیت کو کسی نہ قسم کی قانونی حیثیت دینے کے لیے منصوبہ بندی ضروری ہے۔

انھوں نے کہا کہ میانمار کی حکومت یا تو روہنگیا مسلمانوں کو شہریت دے یا پھر کم از کم فوری طور پر ایسی قانونی حیثیت دے جس کے تحت وہ معمول کی زندگی گزار سکیں جس میں نقل و حرکت کی آزادی، ملازمتوں تک رسائی، تعلیم اور صحت کی سہولیات شامل ہیں۔

اس سے قبل بنگلہ دیش کی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ نے عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ میانمار پر ان دسیوں ہزار روہنگیا پناہ گزینوں کو واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالیں جو حال ہی میں بنگلہ دیش پہنچے ہیں۔

اس کے علاوہ انھوں نے سلامتی کونسل کو ایک خط لکھ کر اسے کہا کہ وہ میانمار کی حکومت پر تحمل اور برداشت کی پالیسی اپنانے کے لیے دباؤ ڈالے۔

گذشتہ ہفتے سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا تھا تاہم بند کمرے میں ہونے والے اس اجلاس کے بعد کوئی رسمی بیان سامنے نہیں آیا تھا۔

انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ میانمار میں تشدد 'انسانی بحران' کا سبب بن سکتا ہے جس کے امن اور سلامتی پر گہرے اثرات پڑ سکتے ہیں اور جو میانمار کی سرحد سے باہر بھی پھیل سکتا ہے۔'

ادھر اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش میں پہنچنے والے روہنگیا پناہ گزینوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور گذشتہ 24 گھنٹے میں وہاں 35 ہزار سے زیادہ لوگ پہنچے ہیں۔

میانمار

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنروہنگیا مسلمان میانمار سے سرحد عبور کر کے بنگلہ دیش داخل ہو رہے ہیں

اطلاعات کے مطابق 25 اگست کے بعد سے سوا لاکھ کے قریب روہنگیا میانمار کی ریاست رخائن چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

یہ بحران اس وقت شروع ہوا جب روہنگیا جنگجوؤں نے پولیس کی چوکیوں پر حملہ کیا جن میں متعدد پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔

اس کے بعد سے فوج نے جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں عام شہریوں کی بڑی تعداد اپنے دیہات چھوڑ کر نقلِ مکانی پر مجبور ہو گئی۔

روہنگیا میانمار کی بےوطن اقلیت ہیں جنھیں میانمار کی جانب سے استحصال کا سامنا ہے۔ رخائن ریاست سے فرار ہونے والوں نے بتایا ہے کہ بدھ کے جتھے ان کے دیہات کو آگ لگاتے پھر رہے ہیں اور عام شہریوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔

فوج کا کہنا ہے کہ وہ ان جنگجوؤں کے خلاف کارروائی رہی ہے جو عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔