شرح پیدائش پر قابو پانے کے لیے نائجر میں ’شوہروں کے سکول‘

،تصویر کا ذریعہAFP
افریقی ملک نائجر میں آبادی میں اضافہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ نائجر میں شرح پیدائش دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ نائجر میں اوسطاً ایک عورت کے سات بچے ہوتے ہیں۔
شرح پیدائش کو کم کرنے کے لیے 'ہسبنڈ سکول' یعنی شوہروں کے سکول کے ذریعے آبادی میں کمی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق موجودہ شرح پیدائش سے 2050 تک نائجر کی آبادی تین گنا ہو جائے گی۔
مداحا موسیٰ نائجر کے ایک گاؤں انگول گاؤ کے باسی ہیں۔ ان کی ایک بیوی اور تین بچے ہیں۔
موسیٰ کے گاؤں میں 'شوہروں کے سکول' کا آغاز کیا گیا ہے جہاں پر شوہروں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ کم بچوں کے فوائد کیا ہیں۔
سکول میں موسیٰ نے نے کہا کہ اگر بچے کم ہوں گے تو عورت بچوں کو بہتر طریقے سے اپنا دودھ پلا سکے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سکول میں بچے کی پیدائش اور کم عمر میں شادی جیسے مسائل پر بات کی جاتی ہے تاکہ مردوں یعنی شوہروں کو یہ سمجھایا جا سکے کہ کم عمر میں شادی اچھی نہیں ہے اور بچے کم ہی ہونے چاہیئں۔
موسیٰ کا کہنا ہے کہ ان موضوعات پر اس لیے بات کی جاتی ہے کہ یہ اہم مسائل ہیں۔ 'ہم بحث کے ذریعے اپنی غلطیوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہAFP
نائجر میں زیادہ بچے عام بات ہے اور لوگ زیادہ بچے چاہتے ہیں کیونکہ زیادہ بچے کامیابی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔
موسیٰ کا کہنا ہے کہ وہ خود ایک بڑے خاندان سے آئے ہیں۔ ان کے والد کی تین بیویاں تھیں اور وہ 16 بہن بھائی تھے۔
نائجر کی حکومت کو امید ہے کہ 'شوہروں کے سکول' کے ذریعے آبادی میں اضافے پر کنٹرول کیا جا سکے گا اور مانع حمل ادویات کے استعمال میں اضافہ ہو گا۔
'شوہروں کے سکول' سے مردوں کے رویے میں تبدیلی آ رہی ہے اور مانع حمل ادویات کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے۔
موسیٰ کے گاؤں کے قریب ہی واقع ایک اور گاؤں میں نینا عائشہ کو ان کے شوہر نے مانع حمل ادویات استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
عائشہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے نے اپنے شوہر سے اجازت اس لیے لی کہ 'میں چاہتی تھی کہ میں دوسروں کے لیے ایک مثال بنوں۔ میرے خیال میں ہمیں خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔'
موسیٰ کا کہنا ہے کہ 'شوہروں کے سکول' سے پہلے مرد بہت بچے پیدا کرتے تھے اور زیادہ بچوں کو اپنی کامیابی تصور کیا کرتے تھے۔ 'لیکن اصل میں یہ کامیابی نہیں ہے۔'
نائجر حکومت کا کہنا ہے کہ اگرچہ 'شوہروں کے سکول'سے مردوں کی سوچ میں بڑی تبدیلی آئی ہے لیکن اس کے ثمرات سامنے آنے میں کئی سال لگ جائیں گے۔







