ولی کے قانون کے خلاف مہم چلانے والی مریم رہا

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@MERIAM_AL3TEEBE
رپورٹوں کے مطابق سعودی عرب میں خواتین کے لیے ولی کے قانون کے خلاف مہم چلانے والی کارکن کو جیل میں ایک سو دن قید رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔
یہ بات اہم ہے کہ مریم العتیبی کو بغیر ولی کے جیل سے جانے دیا گیا۔
وہ خودمختارانہ زندگی گزارنے کے لیے اپنے والد کے گھر سے نکل گئی تھیں۔
ولی کے قانون کے تحت سعودی خواتین کو پاسپورٹ حاصل کرنے، بیرونِ ملک سفر کرنے، شادی کرنے یا پھر جیل سے نکلتے وقت کسی قریبی مرد رشتے دار کی ضرورت ہوتی ہے۔
العتیبی کو سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ فالو کرتے ہیں۔ انھوں نے سوشل میڈیا پر #IAmMyOwnGuardian یعنی میں اپنی ولی خود ہوں، کے ہیش ٹیگ سے ایک مہم چلائی تھی اور شاہ سلمان کو خطوط بھیجے تھے۔
تاہم ان کے اپنے گھر کے مردوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔ اس کے بعد مریم گھر چھوڑ کر ریاض چلی گئیں تو ان کے والد نے ولی کے قانون کے تحت ان کے خلاف پولیس میں رپٹ درج کروا دی۔
پولیس نے انھیں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا۔
گرفتاری سے تھوڑی دیر قبل مریم نے ٹویٹ کی تھی کہ 'میں دوبارہ جہنم میں نہیں جانا چاہتی۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپریل میں شاہ سلمان نے سرکاری اداروں کو ہدایات دی تھیں کہ خواتین کو سرکاری سہولیات حاصل کرتے وقت ولی کی شرط ختم کر دی جائے۔












