امریکہ کی ویران پٹڑیاں: تصاویر

،تصویر کا ذریعہJohn Sanderson
فوٹوگرافر جان سینڈرسن کی ابتدائی یادوں میں سے ایک نیویارک سے سڑک کے راستے پینسلوینیا کے سفر کی ہیں جن میں ان کا خاندان ان کے ہمراہ ہوا کرتا تھا۔
ایسے ہی سفر کے دوران 13 سالہ اینڈرسن کو تصاویر کھینچنے کا شوق ہوا جب وہ سٹراسبرگ میں پٹڑیوں اور بھاپ سے چلنے والے انجنوں کی عکس بندی کرتے رہے۔
جوان ہونے کے بعد سینڈرسن کو ریل کی پٹڑیاں پھر یاد آئیں اور اس مرتبہ انھوں نے تصویر کشی کے لیے ایسی پٹڑیوں کا انتخاب کیا جہاں عموماً کم ہی ٹرین آتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہJohn Sanderson

،تصویر کا ذریعہJohn Sanderson

،تصویر کا ذریعہJohn Sanderson
سینڈرسن کے خیال میں خالی پٹڑیوں کی تصویر کشی سے انھیں اس کے آس پاس کے مناظر اور تعمیرات پر بھی توجہ مرکوز کرنے کا موقع ملا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے لگا کہ یہ امریکہ کی قومی شبیہ دکھانے کا بہترین موقع ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہJohn Sanderson

،تصویر کا ذریعہJohn Sanderson

،تصویر کا ذریعہJohn Sanderson
ان تصاویر کے لیے سینڈرسن نے شہروں سے لے کر دیہات اور پھر بلندوبالا پہاڑی سلسلوں سے چھوٹے چھوٹے قصبوں تک کا سفر کیا۔
تصاویر میں مشرقی امریکہ سے مغربی ریاستوں تک منظر فلک بوس عمارتوں سے لہلہاتے کھیتوں میں تبدیل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہJohn Sanderson

،تصویر کا ذریعہJohn Sanderson

،تصویر کا ذریعہJohn Sanderson
بسا اوقات سینڈرسن نے جان بوجھ کر پٹڑیوں کا اختتامی حصہ نہیں دکھایا اور وہ اندھیرے میں گم ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا ہے کہ ’جیسے جیسے میں یہ تصویریں کھینچتا گیا زاویے واضح ہونے لگے کیونکہ وہ عمارتیں پٹڑیوں کے گرد تعمیر کی گئی تھیں۔‘

،تصویر کا ذریعہJohn Sanderson

،تصویر کا ذریعہJohn Sanderson

،تصویر کا ذریعہJohn Sanderson
سینڈرسن کو ان ریلوے پٹڑیوں کا سکوت بہت پسند آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پرشور سڑکوں کے مقابلے میں یہ بہت بہتر تھا۔
’وہ واقعی بہت بہتر تھا مگر دیر تھی ایک سو گاڑیوں جتنی لمبی مال گاڑی کے گزرنے کی۔‘

،تصویر کا ذریعہJohn Sanderson
تصاویر بشکریہ جان سینڈرسن







