امریکہ کی ویران پٹڑیاں: تصاویر

فوٹوگرافر جان سینڈرسن کی ابتدائی یادوں میں سے ایک نیویارک سے سڑک کے راستے پینسلوینیا کے سفر کی ہیں جن میں ان کا خاندان ان کے ہمراہ ہوا کرتا تھا۔

ایسے ہی سفر کے دوران 13 سالہ اینڈرسن کو تصاویر کھینچنے کا شوق ہوا جب وہ سٹراسبرگ میں پٹڑیوں اور بھاپ سے چلنے والے انجنوں کی عکس بندی کرتے رہے۔

جوان ہونے کے بعد سینڈرسن کو ریل کی پٹڑیاں پھر یاد آئیں اور اس مرتبہ انھوں نے تصویر کشی کے لیے ایسی پٹڑیوں کا انتخاب کیا جہاں عموماً کم ہی ٹرین آتی ہے۔

سینڈرسن کے خیال میں خالی پٹڑیوں کی تصویر کشی سے انھیں اس کے آس پاس کے مناظر اور تعمیرات پر بھی توجہ مرکوز کرنے کا موقع ملا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے لگا کہ یہ امریکہ کی قومی شبیہ دکھانے کا بہترین موقع ہے۔‘

ان تصاویر کے لیے سینڈرسن نے شہروں سے لے کر دیہات اور پھر بلندوبالا پہاڑی سلسلوں سے چھوٹے چھوٹے قصبوں تک کا سفر کیا۔

تصاویر میں مشرقی امریکہ سے مغربی ریاستوں تک منظر فلک بوس عمارتوں سے لہلہاتے کھیتوں میں تبدیل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔

بسا اوقات سینڈرسن نے جان بوجھ کر پٹڑیوں کا اختتامی حصہ نہیں دکھایا اور وہ اندھیرے میں گم ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جیسے جیسے میں یہ تصویریں کھینچتا گیا زاویے واضح ہونے لگے کیونکہ وہ عمارتیں پٹڑیوں کے گرد تعمیر کی گئی تھیں۔‘

سینڈرسن کو ان ریلوے پٹڑیوں کا سکوت بہت پسند آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پرشور سڑکوں کے مقابلے میں یہ بہت بہتر تھا۔

’وہ واقعی بہت بہتر تھا مگر دیر تھی ایک سو گاڑیوں جتنی لمبی مال گاڑی کے گزرنے کی۔‘

تصاویر بشکریہ جان سینڈرسن