ٹینکر حادثہ: ہلاک شدگان کی تعداد 145، تحقیقات کا اعلان

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے صوبہ پنجاب کے ضلع بہاولپور میں تیل سے بھرے ٹینکر کے الٹنے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی مالی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے کی مکمل انکوائری کی جائے گی۔
دوسری جانب اس حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد مزید اضافے کے بعد 145 تک پہنچ گئی ہے۔
بہاولپور کے وکٹوریا ہسپتال کی ایم ایس طاہرہ پروین نے بتایا ہے کہ ابتدائی طور پر ان کے پاس 127 افراد مردہ حالت میں لائے گئے تھے جس کے بعد 18 زخمی افراد کی ہلاکت کے بعد اب تک کل 145 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس سے قبل احمد پور شرقیہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو 20، 20 لاکھ جبکہ شدید زخمیوں کو دس، دس لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کی مشکلات کم کرنے کے لیے معاوضے کا اعلان کیا گیا ہے تاہم یہ کسی انسانی جان کا نعم البدل نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جائے حادثہ پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق اتوار کو پیش آنے والے واقعے کے بعد آج شہر کی فضا سوگوار ہے جبکہ لوگ اب بھی اپنے پیاروں کو تلاش کر رہے ہیں۔
نامہ نگار کے مطابق جائے حادثے کے قریب واقع چھوٹی بستیوں میں اب تک چھ افراد کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔
تاہم ایک خاتون ظہوراں بی بی تاحال اپنے پیاروں کی راہ دیکھ رہی ہیں۔ 66 سالہ ظہوراں بی بی کا ایک بیٹا، دو بہوئیں اور ایک پوتا اس حادثے کے بعد سے لاپتہ ہیں جبکہ ان کی ایک پوتی زخمی ہے۔
اس سے پہلے نواز شریف کو بہاولپور پہنچنے کے بعد سانحہ احمد پور شرقیہ کے حوالے سے بریفینگ دی گئی۔

کمشنر بہاولپور ثاقب ظفر نے نواز شریف کو بریففنگ میں بتایا کہ کراچی سے بہاولپور جانے والے ٹینکر میں 25,000 لیٹر تیل موجود تھا۔
ریسکیو 1122 کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ زخمیوں کی تعداد 140 تک ہے جن میں سے 21 بہاولپور جبکہ 59 ملتان میں ہیں دیگر زخمیوں اردگرد کے شہروں میں منتقل کیا گیا۔
پاکستان میں ماضی میں بھی ٹریفک حادثات کے دوران آئل ٹینکرز میں آگ بھڑکنے سے ہلاکتوں کے بڑے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
گذشتہ برس فروری میں ضلع شیخوپورہ میں آئل ٹینکر اور کار میں تصادم کے بعد لگنے والی آگ سے دس افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 2015 میں کراچی کے قریب شکارپور جانے والی ایک مسافر بس اور آئل ٹینکر کی ٹکر کے نتیجے میں 62 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔









