پیرس معاہدے سے نکلنے پر دنیا بھر میں امریکہ کی مذمت کا سلسلہ جاری

نیو یارک مظاہرہ

،تصویر کا ذریعہAFP

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے پیرس ماحولیاتی معاہدہ 2015 سے نکلنے کے اعلان کی دنیا بھر میں مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیریش کے ترجمان نے کہا کہ'یہ بڑی مایوس کن بات ہے،' جب کہ یورپی یونین نے اسے 'دنیا کے افسوس ناک دن' قرار دیا ہے۔

تاہم رپبلکن پارٹی کے ایک سینیئر رہنما نے کہا کہ امریکی کوئلے کی صنعت نے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ معاہدہ امریکہ کو سزا دیتا ہے اور اس سے لاکھوں امریکی بےروزگار ہو جائیں گے۔

سابق امریکی صدر براک اوباما، جنھوں نے پیرس معاہدے کی منظوری دی تھی، نے ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ 'مستقبل کو مسترد کر رہی ہے۔'

ڈزنی کی چیف ایگزیکٹیو ایلون مسک نے وائٹ ہاؤس کی مشاورتی کونسل سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

ایلون مسک نے کہا: 'ماحولیاتی تبدیلی واقعی رونما ہو رہی ہے۔ پیرس سے الگ ہونا نہ امریکہ کے لیے اچھا ہے نہ دنیا کے لیے۔'

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ سنہ 2015 میں پیرس میں ماحولیات سے متعلق طے پانے والا عالمی معاہدہ ختم کر رہا ہے۔

امریکہ مظاہرے

،تصویر کا ذریعہAFP

وائٹ ہاؤس میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اس معاہدے سے نکل رہا ہے کیوں کہ اس میں شامل شرائط کی وجہ سے اس پر اقتصادی بوجھ پڑ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ عرصے میں واشنگٹن کی جانب سے کیے جانے والے یہ ایک ایسے معاہدے کی مثال ہے جس میں دوسرے ممالک کا فائدہ ہے اور وہ امریکہ کے لیے ’منصفانہ‘ شرائط کے ساتھ دوبارہ معاہدے کا حصہ بننے کے لیے مذاکرات کا آغاز کریں گے۔

اس فیصلے پر کس نے کیا کہا؟

صدر ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کینیڈا کی ماحولیات کی وزیر کیتھرین میکینا کا کہنا ہے کہ کینیڈا کو ٹرمپ کے اس فیصلے سے ’بہت مایوسی‘ ہوئی ہے۔

فرانس، جرمنی اور اٹلی کے سربراہان نےایک مشترکہ بیان میں اس معاہدے سے متعلق امریکہ سے دوبارہ کسی قسم کے مذاکرات کرنے کو مسترد کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے گذشتہ سال صدارتی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ اس معاہدے سے امریکہ کو نکال لیں گے تاکہ کوئلے اور تیل کی صنعت کو فائدہ پہنچے۔

مخالفین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے نکلنا امریکی صدر کا ایک عالمی چیلنج کا سامنا کرنے سے دستبردار ہونے کے مترادف ہے۔

ماحولیات کی تبدیلی سے موسمی تبدیلیاں ہورہی ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

پیرس معاہدے کے تحت امریکہ اور دیگر 187 ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی درجہ حرات میں اضافے کو دو ڈگری سے نیچے رکھیں اور مزید کوششیں کر کہ اس کو 1.5 ڈگری تک محدود کیا جائے۔

ادھر چین اور یورپی یونین کے رہنما پیرس ماحولیاتی معاہدے سے متعلق ایک مشترکہ بیان میں اس موقف کے ساتھ اتفاق کرنے والے ہیں کہ یہ 'پہلے سے کہیں زیادہ ضروری اور اہم ہے۔'