روسی مداخلت کی تحقیقات:امریکی سینیٹ کا مائیکل فلِن سے دستاویزات کا باضابطہ مطالبہ

مائیکل فِلن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفلن ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ہیں اور انھوں نے روسی سفیر کے ساتھ روس پر عائد امریکی پابندیوں کا معاملہ اٹھانے کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ سے غلط بیانی سے کام لیا تھا

امریکی صدارتی انتخاب میں مبینہ روسی مداخلت کی تحقیقات کرنے والے سینیٹ کے ایک پینل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق قومی سلامتی کے مشیر مائیکل فلِن سے دستاویزات کا باضابطہ مطالبہ کیا ہے۔

سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کا کہنا ہے کہ مائیکل فلِن تحقیقات میں رضاکارنہ طور پر تعاون کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

خیال رہے کہ مائیکل فلن کو روسی سفیروں کے ساتھ ان کی ملاقاتوں کی معلومات ظاہر نہ کرنے پر فروری میں برخاست کر دیا گیا تھا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گذشتہ روز ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کو بھی ان کے عہدے سے برطرف کر چکے ہیں۔

اس حوالے سے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر منتخب ہوتے وقت ہی جیمز کومی کو برطرف کرنے کے بارے میں غور کر رہے تھے۔

امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس نے مائیکل فِلن کی جانب سے 28 اپریل کو تحقیقات سے متعلق دستاویزات جمع نہ کروانے کے بعد سمن جاری کیا ہے۔

امریکی سینیٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کا کہنا ہے کہ مائیکل فلِن تحقیقات میں رضاکارنہ طور پر تعاون کرنے میں ناکام رہے ہیں

واضح رہے کہ فلن کے روس کے ساتھ روابط کے بارے میں امریکی تفتیشی ادارہ ایف بی آئی اور ہاؤس اور سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹیاں تحقیقات کر رہے ہیں۔ وہ اس بارے میں چھان بین کر رہے ہیں کہ آیا روس نے امریکی انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی تھی۔

فلن ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ہیں اور انھوں نے روسی سفیر کے ساتھ روس پر عائد امریکی پابندیوں کا معاملہ اٹھانے کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ سے غلط بیانی سے کام لیا تھا۔

اس کے علاوہ گذشتہ دنوں وائٹ ہاؤس نے بھی تصدیق کی تھی کہ سابق امریکی صدر براک اوباما نے ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ مائیکل فلِن کو قومی سلامتی کا مشیر نہ بنایا جائے۔

اوباما انتظامیہ کے ایک سابق اہلکار کا کہنا تھا کہ صدر اوباما نے اپنے جانشین ٹرمپ کو نومبر میں امریکی صدر منتخب ہونے کے 48 گھنٹے کے اندر اندر وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ملاقات کے دوران اس بارے میں خبردار کیا تھا۔