’ٹرمپ شروع ہی سے کومی کو برطرف کرنا چاہتے تھے‘

ڈونلڈ ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنوائٹ ہاؤس کے باہر مظاہرین جمع ہو گئے ہیں جو جیمز کومی کی برطرفی پر احتجاج کر رہے ہیں

وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر منتخب ہوتے وقت ہی ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کو برطرف کرنے کے بارے میں غور کر رہے تھے۔

سارا ہکابی سینڈرز نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ گذشتہ برس کئی غلط اقدامات کے بعد کومی پر اعتماد متزلزل ہو گیا تھا۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کومی کو اس لیے برطرف کیا گیا کہ انھوں نے ہلیری کلنٹن کی ای میلز کے معاملے کو ٹھیک طرح سے نہیں نبھایا تھا۔

تاہم حزبِ اختلاف کے مطابق اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ کومی روس اور ٹرمپ کے تعلق کے بارے میں تفتیش کر رہے تھے۔

سینڈرز نے 2016 کے صدارتی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت کے بارے خصوصی افسرِ استغاثہ مقرر کرنے کا مطالبہ رد کر دیا۔

انھوں نے کہا: 'ہم نہیں سمجھتے کہ اس کی ضرورت ہے۔ ہم سے زیادہ کوئی اور اس معاملے کو انجام تک پہنچانا نہیں چاہتا۔'

کومی کی برطرفی نے واشنگٹن کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور ڈیموکریٹ ارکان اس پر سخت برہم ہیں۔

ایوانِ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے رکن ایڈم سکف نے، جن کا تعلق ڈیموکریٹ پارٹی سے ہے، کہا کہ اس برطرفی سے 'اس بارے میں سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں کہ وائٹ ہاؤس ایک مجرمانہ معاملے میں کھلم کھلا مداخلت تو نہیں کر رہا۔'

صدر ٹرمپ اور سرگے لاوروف

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنصدر ٹرمپ اور روسی وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف

تاہم صدر نے بدھ کی صبح اپنے اس اقدام کا دفاع کیا۔

انھوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا: 'جیمز کومی کی جگہ کسی ایسے شخص کو لایا جائے گا جو ان سے بہتر کام کر سکے گا، اور ایف بی آئی کا وقار اور جذبہ واپس لا سکے گا۔

'کومی واشنگٹن میں ہر کسی کا اعتماد کھو بیٹھے تھے چاہے وہ رپبلکن ہو یا ڈیموکریٹ۔ جب حالات معمول پر آ جائیں گے تو سبھی میرا شکریہ ادا کریں گے۔‘

کومی ایف بی آئی کے دوسرے سربراہ ہیں جنھیں اپنے عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ ابھی ان کی مدتِ ملازمت میں چھ سال باقی تھے۔

روسی صدر ولادی میر پوتن نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 'ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ اپنی اہلیت اور اپنے قانون کے مطابق عمل کر رہے ہیں۔'

ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما چک شومر نے کہا ہے کہ وہ درخواست کریں گے کہ وزارتِ انصاف کی جانب سے اس معاملے پر سینیٹروں کے لیے بند کمرے میں بریفنگ منعقد کروائی جائے۔

وہ یہ مطالبہ بھی کریں گے کہ ایف بی آئی کی روسی مداخلت کی اب تک ہونے والی تفتیش کے لیے خصوصی استغاثہ افسر تعینات کیا جائے۔

تاہم امریکی نائب صدر مائیک پینس نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے فیصلہ کن قیادت کا ثبوت دیا ہے اور یہ اقدام امریکی عوام کے مفاد میں کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا: 'صدر نے صحیح وقت پر صحیح قدم اٹھایا ہے۔'

جیمز کومی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجیمز کومی کی اچانک برطرفی نے واشنگٹن کو ہلا کر رکھ دیا ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کو اس لیے برطرف کیا ہے کہ 'وہ اپنا کام صحیح طریقے سے انجام نہیں دے رہے تھے۔'

انھوں نے سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہنری کسنجر کے ساتھ ملاقات کے دوران اس برطرفی کے بارے میں براہِ راست بات کی۔

امریکی صدر نے کہا کہ انھوں نے جیمز کومی کو ہلیری کلنٹن کی ای میلز کے معاملے پر برخاست کیا ہے۔

تاہم امریکی میڈیا کے مطابق جیمز کومی نے امریکی انتخابات میں روس کی جانب سے مبینہ مداخلت کی تحقیقات کرنے کے لیے مزید رقم کا مطالبہ کیا تھا۔