میانمار کے فوجی سربراہ کا روہنگیا کے خلاف آپریشن کا دفاع

،تصویر کا ذریعہReuters
میانمار یعنی برما کے فوجی سربراہ نے رخائن میں فوجی آپریشن کا دفاع کیا ہے جس کے نتیجے میں 75 ہزار سے زیادہ مسلم اقلیت کو ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
فوجی سربراہ من آنگ ہلینگ نے کہا کہ روہنگیا میانمار آنے والے تارکین وطن ہیں اور فوج کا یہ فرض ہے کہ ملک کی سیاسی مذہبی اور نسلی مسائل سے تحفظ فراہم کرے۔
خیال رہے کہ گذشتہ ماہ اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر روہنگیا اقلیت کا قتل اور اجتماعی ریپ کیا ہے۔
ہر چند کہ بہت سے روہنگیا ایک عرصے سے برما میں قیام پذیر ہیں تاہم ملک میں بہت سے رہنے والے انھیں بنگلہ دیش سے آنے والے ناپسندیدہ تارکین وطن کے طور پر دیکھتے ہیں۔
بہرحال میانمار کی عالمی سطح پر اس بات کے لیے تنقید کی جاتی ہے کہ اس نے اپنے ملک کے رخائن علاقے میں آباد مسلم اقلیت روہنگیا کے خلاف ناروا سلوک روا رکھا ہے۔
ایک تخمینے کے مطابق ان کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ ہے لیکن حکومت انھیں غیرقانونی پناہ گزین کہتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فوجی سربراہ من آنگ نے آرمڈ فورس ڈے کے موقعے پر دارالحکومت میں یکجا مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے فوجی آپریشن کا دفاع کیا اور کہا: رخائن میں رہنے والے بنگالی میانمار کے باشندے نہیں بلکہ تارکین وطن ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
سنہ 2016 کے اکتوبر میں ہونے والے دہشت گرد حملے نے سیاسی رخ اختیار کر لیا ہے۔
اس سے قبل اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق نے کہا تھا کہ میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ملک کی فوج کی جانب سے مبینہ مظالم کی تفتیش کرے گی۔
اے ایف کے مطابق آنگ سان سو چی کی سربراہی والی حکومت نے اقوام متحدہ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت خود اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔
روہنگیا مسلمانوں کے مطابق وہ عرب تاجروں کی اولاد میں سے ہیں جو صدیوں سے میانمار میں موجود ہیں لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ وہ سب بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی تارکین وطن ہیں۔
یاد رہے کہ ملک کے مغرب میں واقع ریاست رکھائن میں تقریباً دس لاکھ روہنگیا مسلمان رہائش پزیر ہیں جہاں فرقہ وارانہ فسادات کے نتیجے میں 2012 سے اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد گھر بدر ہو چکے ہیں۔










