'ہم روہنگیا ہیں، ہمیں مار ہی دیجیے'

انبیا خاتون
،تصویر کا کیپشنانبیا خاتون بھارت میں محفوظ تو محسوس کرتی ہیں لیکن زندگی یہاں بھی آسان نہیں ہے اور زندگی سے مایوس ہیں
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

'ہمارے بھائي بہن، رشتےدار برما میں ہیں۔ جب ہم بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں یہا ں حالت بہت بری ہے ہمارے لیے دعا کرنا۔ ہم یہاں آگئے لیکن یہاں بھی زندگی بہت مشکل ہے۔ ہم جہاں بھی جاتے ہیں وہیں مصیبت آجاتی ہے۔ ہم روہنگیا لوگوں کو مار کر قبرستان میں ہی دفن کر دیجیئے۔' یہ کہتے ہوئے 23 برس کی انبیا خاتون کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔

انبیا ایک روہنگیا پناہ گزیں ہیں۔ وہ جموں کے ایک پناہ گزیں کیمپ میں رہ رہی ہیں۔ جموں میں پانچ ہزار سے زیادہ روہنگیا پناہ گزینوں نے کئی برس سے پناہ لے رکھی ہے۔ یہ پناہ گزیں شہر کے کئی علاقوں میں چھوٹی چھوٹی جھگی بستیوں میں مقیم ہیں۔

جموں برما کی سرحد سے تقریبآ تین ہزار کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ آخر یہ روہنگیا پناہ گزیں وہاں کیسے پہنچے؟

روہنگیا
،تصویر کا کیپشنجموں میں پانچ ہزار سے زیادہ روہنگیا پناہ گزینوں نے کئی برس سے پناہ لے رکھی ہے، یہ پناہ گزیں شہر کے کئی علاقوں میں چھوٹی چھوٹی جھگی بستیوں میں مقیم ہیں

روہنگیا برادری کے ایک بزرگ دل محمد نے بتایا کہ انھوں نے بزرگوں سے سنا تھا کہ جموں کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ وہاں انھیں مدد مل سکتی ہے۔ 'ہم جب 2012 میں یہاں آئے تو ہمیں معلوم ہوا کہ بھارت کی سبھی ریاستوں میں مسلمان آباد ہیں۔'

16 دسمبر کو بھارت کے دارالحکومت دلی میں روہنگیا مسلمانوں نے اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزیں کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کیا وہ میانمار میں روہنگیا برادری پر ہونے والے مبینہ مظالم کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ وہ بھارت کے کئی شہروں سے یہاں جمع ہوئے تھے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں پندرہ ہزار روہنگیا پناہ گزیں رہ رہے ہیں۔ انھیں اقوام متحدہ نے باضابطہ طور پر پناہ گزیں تسلیم کر رکھا ہے لیکن انھیں دوسرے پناہ گزینوں کی طرح کوئی مالی مدد نہیں ملتی۔

وہ دلی، جموں، حیدرآباد، ہریانہ اور اتر پریش میں چھوٹی چھوٹی جھگیوں میں رہ رہے ہیں۔ گزر بسر مزدوری کر کے ہو رہی ہے۔ بیشتر نے چار پانچ برس میں اردو یا ہندی بولنا سیکھ لیا ہے۔ ان پناہ گزینوں میں ایک بڑی تعداد بچوں کی ہے۔

مظاہرہ
،تصویر کا کیپشن16 دسمبر کو بھارت کے دارالحکومت دلی میں روہنگیا مسلمانوں نے اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزیں کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کیا

روہنگیا یہاں محفوظ محسوس کر تے ہیں لیکن میانمار کے حالات ان کے ذہن میں نقش ہیں۔ علی حسین بانچ برس قبل رخائین صوبے سے جان بچا کر یہاں پہنچے تھے۔ ان کے پیر میں کسی تیز دھار ہتھیار کے گہرے وار کے نشان موجود ہیں۔

انہیں چلنے میں دقت ہوتی ہے۔ 'میرے بھائی میرے چاچا، بہن، ماں سب کو مار دیا۔ انھوں نے دوڑا دوڑا کر کاٹا تھا۔ برما میں بہت ظلم ہو رہا ہے۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ ہم یہاں پہنچ گئے۔ یہاں مسلمانوں کی اکثریت نہیں ہے لیکن یہاں کی حکومت نے ہماری جیسی مدد کی ہے کسی مسلم ملک نے بھی نہیں کی۔'

لیکن بھارت کے زیر انتظام جموں وکشمیر میں آبادی میں کسی تبدیلی کا سوال ایک حساس سوال ہے۔ یہاں بعض حلقوں کو یہ اندیشہ ہے کہ روہنگیا پناہ گزینوں کو یہاں مستقل طور پر بسانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

گذشتہ ہفتے جموں کے ایوان تجارت نے روہنگیا کو ریاست سے باہر نکالنے کا مطالبہ کیا۔ ایوان تجارت کے صدر راکیش گپتا نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'روہنگیا کو یہاں رکھنے کے پیچھے مقصد کیا ہے؟'

روہنگیا
،تصویر کا کیپشنروہنگیا دلی، جموں، حیدرآباد، ہریانہ اور اتر پریش میں چھوٹی چھوٹی جھگیوں میں رہ رہے ہیں۔ گزر بسر مزدوری کر کے ہو رہی ہے

ریاستی حکومت کا رویہ ہمدردانہ ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا تو مرکزی حکومت کا کام ہے لیکن وہ اس مسئلے کو تنازع کے نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کے نقطہ نظر سے دیکھتی ہے۔

کچھ عرصے سے ان پناہ گزینوں کی مخالفت بڑھتی جا رہی ہے۔ کئی ہندو تنظیمیں روہنگیا کو جموں سے نکالنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ وہ دلی میں بھی ان کی مخالفت کر رہی ہیں۔ وہ اب ان پربالواسطہ طور پر دہشت گردی کا بھی الزام لگاتی ہیں۔

بھارت کی حکومت کا رویہ انسانی ہمدرد ی کا رہا ہے۔ کشمیر کے حالات کے پیش نظر روہنگیا کے بارے میں سکیورٹی کے بھی کچھ خدشات ہیں۔

میانمار کے رخائین صوبے میں ظلم وزیادتی سے بچنے کے لیے روہنگیا بنگلہ دیش اور بھار ت کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین کو اندیشہ ہے کہ پناہ گزینوں کی تعداد آنے والے دنوں میں بڑھے گی۔

روہنگیاؤں کی پناہ گزیں بستیوں میں ایک عجیب سی بے چارگی اور بے بسی کا بسیرا ہے۔ انھیں لگتا ہے کہ کہ پوری دنیا ان کی مخالف ہے۔