ڈونلڈ ٹرمپ کے ہیلتھ کیئر بل پر ووٹنگ موخر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجویز کردہ ہیلتھ کیئر بل پر پارلیمان میں ووٹنگ آخری لمحوں میں اس وقت موخر کر دی گئی جب یہ واضح ہو گیا کہ یہ بل پاس نہیں ہو سکے گا۔
ایوانِ نمائندگان کے سپیکر پال رائن کا کہنا ہے کہ انھوں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ مل کر ووٹنگ کو موخر کرنے کا فیصلہ کیا جب یہ واضح ہو گیا کہ پاس ہونے کے لیے کم از کم درکار 215 ووٹ نہیں مل سکیں گے۔
یاد رہے کہ جمعرات کو بھی اس مسودۂ قانون پر اس وقت رائے شماری ملتوی ہو گئی جب بعض رپبلکن ارکان نے بھی اس پر اعتراضات کیے، حالانکہ صدر ٹرمپ بار بار ان پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ اس بل کی حمایت کریں۔
ووٹنگ کا موخر ہونا صدر ٹرمپ کے لیے ایک بڑا دھچکہ تصور کیا جا رہا ہے۔ صدر اوباما کے ہیلتھ کیئر پلان کو منسوخ کر کے تبدیل کرنا صدر ٹرمپ کے انتخابی وعدوں میں سے ایک تھا۔
یاد رہے کہ امریکہ کے ہیلتھ کیئر ایکٹ میں اس بات کا عندیہ دیا گیا ہے یہ سابق صدر براک اوباما کے دستخط شدہ بل کی جگہ لے گا۔
جمعے کے روز وائٹ ہاؤس کے پریس سکرٹیری شان سپائسر نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ کے ہیلتھ کیئر پلان پر ووٹنگ کی جائے گی۔
اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کے قانون سازوں سے کہا تھا کہ اگر انھوں نے اس بل کی حمایت نہ کی تو وہ ہمیشہ اوباما کیئر کے ساتھ پھنس جائیں گے۔
تاہم کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ 28 سے 35 ریپبلکن قانون سازوں نے اس بل کی مخالفت کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس بل پر ووٹنگ مقامی وقت کے مطابق ساڑھے تین بجے ہونی تھی مگر اسے آخری چند لمحے پہلے ہی روک دیا گیا۔
کچھ ریپبلکن قانون سازوں کے خیال میں صدر ٹرمپ کے پلان میں ہیلتھ کوریج کی کمی بہت زیادہ کی گئی ہے جبکہ کچھ قانون سازوں کے خیال میں یہ کٹوتی کافی نہیں تھی۔
پال رائن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم آج اس قانون کو پاس کرنے کے بہت قریب آگئے مگر مکمل نہیں کر سکے۔‘
’ہمیں مستقبل قریب میں اوباما کیئر کے ساتھ ہی رہنا پڑے گا۔ مگر یہ کہانی کا اختتام نہیں ہے۔‘









