لندن حملہ: برمنگھم میں پولیس کے چھاپے، سات مشتبہ افراد گرفتار

لندن پولیس

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنکمشنر راؤلے کا کہنا تھا کہ ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ حملہ آور نے عالمی دہشت گردی سے رغبت حاصل کی ہوگی

برطانیہ میں انسداد دہشت گردی کے محکمے کے سینیئر افسر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بدھ کے روز لندن میں ہونے والے حملے کی تفتیش کرنے والی پولیس نے برمنگھم میں چھ گھروں پر چھاپے مارے ہیں۔

لندن میٹروپولیٹین پولیس کے قائم مقام نائب کمشنر مارک راؤلے کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں سات افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

بدھ کی شام کو لندن میں پارلیمان کے باہر ویسٹ منسٹر کے پل پر ایک حملہ آور نے وہاں موجود راہگیروں پر پہلے گاڑی چڑھا دی تھی پھر حملہ آور پیلس آف ویسٹ منسٹر کے دروازوں کی طرف بھاگا اور وہاں پر موجود ایک پولیس اہلکار کو اس نے چاقو مار کر ہلاک کر دیا۔

لندن پولیس

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنہلاک ہونے والوں میں ایک پولیس اہلکار اورتین عام شہری شامل ہیں جبکہ حملہ آور کو پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا

ہلاک ہونے والوں میں ایک پولیس اہلکار اورتین عام شہری شامل ہیں جبکہ حملہ آور کو پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

کمشنر راؤلے کا کہنا تھا کہ خیال ہے کہ حملہ آور عالمی دہشت گردی سے ذہنی طور پر متاثر ہوا ہو گا ۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہاؤس آف پارلیمنٹ کے قریب 'دہشتگردی' کے واقعے میں حملہ آور سمیت چار افراد ہلاک جبکہ 40 کے قریب زخمی ہو ئے ہیں۔ زخمیوں میں سے سات افراد کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

امریکہ، جرمنی، فرانس سمیت دنیا کے بہت سے ممالک کے سربراہان نے اس واقعے کے بعد برطانیہ سے اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔

عوام

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنرسلز میں عوام دل کا نشان بنا کر ایک سال قبل ملک میں دہشت گردی کے حملے میں نشانہ بننے والوں کو یاد کرتے ہوئے

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے برطانوی وزیراعظم سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی ہم سب کا مسئلہ ہے اور فرانس برطانوی عوام کے دکھ کو سمجھتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں برطانوی سکیورٹی فورسز کے کردار کی تعریف کی ہے۔

جرمنی میں گذشتہ برس ایک ٹرک کے ذریعے ہونے والے خودکش حملے میں 84 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جرمن چانسلر آنگیلا میرکل نے کہا ہے کہ ان کا ملک برطانیہ کے ساتھ عوام اور حکومت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف کھڑا ہے۔