کم جونگ نام کے بیٹے کی پراسرار ویڈیو جاری

،تصویر کا ذریعہAFP
شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن کے حال ہی میں ہلاک ہونے والے بھائی کم جونگ نام کے بیٹے کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔
اس مختصر سے ویڈیو کلپ میں کم جونگ نام کے بیٹے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہہ رہے ہیں : ’میرا نام کم ہان سول ہے میرا تعلق شمالی کوریا کے کم خاندان سے ہے۔‘
ویڈیو میں موجود لڑکے کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ اور بہن بھی ان کے ساتھ ہیں لیکن وہ کہاں ہیں اس کی کوئی معلومات نہیں دی گئی ہیں۔ نہ ہی اس ویڈیو پر کوئی تاریخ دی گئی ہے۔
یہ کم جونگ نام کے خاندان کے کسی فرد کی پہلی ویڈیو ہے جو ان کے قتل کے بعد منظرعام پر آئی ہے اور اس ویڈیو کو سینسر کیا گیا ہے۔
کم جونگ نام کو 13 فروری کو کوالالمپور ائیرپورٹ پر قتل کر دیا گیا تھا۔ اب تک کی تحقیقات کے مطابق ان کے چہرے پر خطرناک گیس وی ایکس ملی گئی تھی۔
جنوبی کوریا کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والا شخص کم جونگ نام کا بیٹا ہی ہے۔
چالیس سیکنڈ کی اس مختصر ویڈیو میں کم ہان سول ایک سلیٹی رنگ کی دیوار کے سامنے بیٹھے ہیں اور بہت ہی شستہ انگریزی میں خود کو متعارف کروا رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’میرے والد کو کچھ دن پہلے قتل کر دیا گیا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ ویڈیو کے دوران شمالی کوریا کا اپنا سفارتی پاسپورٹ بھی دکھا رہے ہیں تاکہ اپنی شناخت کی تصدیق کرسکیں لیکن ان کے پاسپورٹ کی تفصیلات کو چھپانے کے لیے تصویر کو دھندلا کر دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ویڈیو کے آخر میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ’توقع ہے کہ حالات جلد بہتر ہوجائیں گے۔‘
ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ یہ ویڈیو کس نے بنائی ہے اور یہ کہ کم ہان سول اس وقت کہاں ہیں۔
اس ویڈیو کو ایک آن لائن گروپ چئیولیما سول ڈیفنس نے پوسٹ کیا ہے۔ اس گروپ کو پہلے کوئی نہیں جانتا تھا اور ایسا لگتا ہے اسے یوٹیوب پر حال ہی میں رجسٹر کروایا گیا ہے۔
خیال رہے کہ کم ہان سول کی عمر 21 برس ہے اور وہ اپنے والد کے جلاوطنی کے بعد سے چین اور میکاو میں ایک عام شخص کی طرح زندگی گزار رہے تھے۔
دو ہزار بارہ میں انھوں نے بوسنیا میں فن لینڈ کے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیا تھا۔ اس انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ کبھی بھی اپنے طاقتور چچا کم جونگ اُن اور اپنے دادا کم جونگ ال سے نہیں ملے۔
انھوں نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا تھا کہ ان کا خواب ہے کہ وہ کبھی شمالی کوریا واپس جاسکیں اور وہاں کے عوام کے لیے حالات بہتر کر سکیں۔







