ریلیاں روکا جانا ماضی میں نازیوں کی حرکتوں جیسا عمل ہے: طیب اردوغان

،تصویر کا ذریعہAFP
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے جرمنی کے کئی شہروں میں اپنے حامی ترک شہریوں کی ریلیوں کو روکے جانے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے نازی دور کے اقدام سے تشبیہ دی ہے۔
یہ ریلیاں ترکی میں آئندہ ماہ آئینی تبدیلیوں کے لیے ہونے والے ریفرینڈم کے تناظر میں منعقد کی جانی تھیں اور ان کا مقصد جرمنی میں مقیم 30 لاکھ ترک باشندوں کو ووٹ دینے پر آمادہ کرنا تھا۔
اتوار کو استنبول میں خواتین کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر اردوغان نے کہا کہ ’آپ کے اعمال ماضی کے نازیوں کے عمل سے الگ نہیں ہیں۔‘
ترکی میں حکام کے مطابق صدر کے اختیارات میں اضافے کے حوالے سے تحاویز پر 16 اپریل کو ریفرنڈم کرایا جائے گا۔
رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ ’مجھے لگا تھا کہ جرمنی کافی عرصہ قبل (نازیوں کے عمل) چھوڑ چکا ہے۔ ہمیں غلطی ہوئی تھی۔‘
خبر رساں ادراے اے ایف پی کے مطابق گذشتہ ہفتے جرمنی کے کئی علاقوں میں سکیورٹی خدشات کے باعث صدر اردوغان کے وزرا کی طے شدہ مصروفیات منسوخ کر دی گئی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس منسوخی پر ترک حکومت شدید ناراض ہے اور اس نے جرمنی پر آئندہ ماہ ہونے والے ریفرینڈم میں ’ہاں‘ کی مہم کے خلاف کام کرنے کا الزام لگایا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس سلسلے میں جرمن سفیر کو ترک وزارت خارجہ میں طلب کر کے احتجاج بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔
صدر اردوغان کا مزید کہنا تھا کہ ’آپ ہمیں جمہوریت کا درس دیتے ہیں اور پھر اسی ملک کے وزرا کو وہاں بات کرنے نہیں دیتے، جرمنی آرا اور خیالات کا احترام نہیں کر رہا۔‘
دوسری جانب جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے سنیچر کو ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم سے اس معاملے کو ختم کرنے کے لیے کوششیں کرنے کے لیے کہا ہے اور اس سلسلے میں دونوں ممالک کے وزرا خارجہ کے درمیان رواں ہفتے ملاقات متوقع ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ ماہ ترک صدر کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز کے تحت جدید ترکی میں پہلی بار ایگزیکٹیو پریزیڈنسی کا قیام عمل میں لانے کے لیے کہا گیا ہے۔
صدر کے پاس نئی اصلاحات کی منظوری کے بعد نئے اختیارات ہوں گے جن کے تحت وہ وزرا کا تقرر کر سکیں گے اور بہت سے قوانین کا حکم جاری کر سکیں گے۔







