امریکہ دھمکیاں دینا بند کرے، ایران ڈرنے والا نہیں: جواد ظریف

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images
ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ اسے دھمکیاں دینا بند کرے کیونکہ ایران اس کی دھمکیوں سے ڈرنے والا نہیں ہے۔
انھوں نے یہ بات جرمنی کے شہر میونخ میں ہونے والی سکیورٹی کانفرنس میں کی۔
بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے جواد ظریف نے ٹرمپ انتظامیہ پر ایران کو مشتعل اور تنگ کرنے کا الزام عائد کیا۔
انھوں نے کہا کہ بیلسٹک میزائل کے حالیہ تجربے کے بعد امریکہ نئی پابندیاں لگا کر ایران کو مشتعل کرنا چاہتا ہے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران پر مزید پابندیاں عائد کی گیئں تو تہران جوابی اقدامات کا حق رکھتا ہے۔
میونخ میں ہونے والے 53 ویں سکیورٹی کانفرنس میں امریکہ کے نائب صدر نے بھی شرکت کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے اپنے خطاب میں جہاں یورپ سے تعلق پر بات کی وہیں ایران کو دنیا میں دہشت گردی کو سپانسر کرنے والا سب سے بڑا ملک قرار دیا تھا۔
اسی کانفرنس کے دوران سعودی عرب اور اسرائيل نے بھی ایران کو خطے کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images
جواد ظریف نے کہا کہ وہ دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں اور دھمکیاں سفارت کاری کا سود مند آلہ کار نہیں ہیں۔
جب ان سے دریافت کیا گیا کہ اس سے خطے میں ٹکراؤ اور جنگ کی صورت حال پیدا نہیں ہوگی تو انھوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں اس معاملے میں ہوشمندی سے کام لیا جائے گا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران کسی کو چھیڑنے یا مخاصمت پیدا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا لیکن وہ اپنا دفاع ضرور کرے گا۔
اوباما انتظامیہ کے مقابلے میں تہران کو اب واشنگٹن میں زیادہ مخالفت کا سامنا ہے۔
امریکہ کے سابق صدر باراک اوباما کے دورِ حکومت میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان تاریخی جوہری معاہدہ ہوا تھا تاہم ظریف کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے امریکی پالیسی گذشتہ 38 سال یعنی ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد سے کبھی بھی دوستانہ نہیں رہی ہے۔








