شام میں جنگ بندی کے باوجود جھڑپوں کی اطلاعات

شام

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنحکومت مخالف سماجی کارکن کا کہنا ہے کہ شامی فوج نے دمشق کے نواح میں موجود دومہ نامی علاقے میں جمعے کو شیلنگ کی

سرئین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق شام میں جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود حکومت اور باغی فوجوں کے درمیان کچھ علاقوں سے جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

برطانیہ میں موجود سرئین آبزرویٹری نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ شمالی صوبے ہما میں فضائی حملے اور شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔

گروہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ دمشق کے قریب باغیوں کے علاقے وادی برادعہ میں بھی بمباری ہوئی ہے تاہم شامی فوج نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے۔

اس معاہدے کے ضامن روس اور ترکی کی جانب سے معاہدے کی حلاف ورزی کی اطلاعات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

شام

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنحلب پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے شامی فوج کے آپریشن کے ایک ہفتے بعد جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا ہے

اطلاعات کے مطابق جنگ بندی کا معاہدہ طے پانے کے چند ہی گھنٹوں کے اندر حکومت اور باغی فوجوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئی تھیں۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل طے پانے والے اس معاہدے میں شدت پسند گروہ دولت اسلامیہ اور جبۃ الفتح الشام جو پہلے النصرہ کے نام سے جانی جاتی تھی، شریک نہیں ہیں۔

جنگ بندی کا یہ معاہدہ دمشق کے نزدیک غوطہ کے قریب باغیوں کےزیر قبضہ علاقے میں نافذ العمل ہے جبکہ تیرہ مسلح گروہوں نے جنگ بندی کےمعاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

شام میں 2011 سے شروع جنگ میں کم از کم تین لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ چالیس لاکھ سے زیادہ افراد ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

رواں ماہ کے اوائل میں روس اور ترکی کی کوششوں سے حلب میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت دسیوں ہزار شہری اور ہزاروں باغی مشرقی حلب سے نکلنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

شام

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشناطلاعات ہیں کہ وادی برادہ میں شیلنگ کی وجہ سے دمشق کے مکینوں کو پانی کی سپلائی میں تعطل پیدا ہوا ہے

سریین آبزرویٹری گروپ کا کہنا ہے کہ حکومتی فوج کے 16 طیاروں نے شمال میں موجود باغیوں کے علاقوں میں جمعے کو بمباری کی۔

ایک مقامی اشتراکی کمیٹی ایل سی سی کا کہنا ہے کہ حلفایہ نامی گاؤں کو نشانہ بنایا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ بسیمہ نامی گاوں میں باغیوں اور ان کے حامی جہادیوں کو جن کا تعلق جبتہ الفتح الشام سے ہے کو نشانہ بنایا گیا۔

لیکن شامی فوج کے میڈیا یونٹ کی جانب سے ان خبروں کی تردید کی گئی ہے کہ فوج نے وادی برادہ میں شیلنگ کی ہے۔