ہم روسی ہیکرز کا کارڈ استعمال کرتے تو سازش کہا جاتا: ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدارتی انتخابات میں روسی ہیکرز کی مداخلت کے دعوؤں کا ایک مرتبہ پھر مذاق اڑایا ہے۔
انھوں نے ایک ٹوئٹ میں کہا: ' کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ اگر انتخابات کا نتیجہ مختلف ہوتا اور ہم روس اور سی آئی اے کا کارڈ استعمال کرتے۔ اس کو شازشی سوچ کہا جاتا۔'
نو منتخب امریکی صدر نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ مبینہ سائبر حملوں کا معاملہ انتخابات سے قبل کیوں نہیں اٹھایا گیا۔
امریکہ کی صدارت اور مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کا عہدہ سنبھالنے والے شخص کی طرف ملک کے خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے بارے میں یہ کلمات دونوں کے درمیان تلخی کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔
پیر کے روز ایک اور ٹوئٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جب تک آپ ہیک کرتے ہوئے کسی کو رنگے ہاتھوں نہ پکڑیں تو یہ تعین کرنا ناممکن ہے کہ ہیکنگ کون کر رہا تھا۔ یہ معاملہ انتخابات سے پہلے کیوں نہیں اٹھایا گیا؟'
ٹوئٹر پر ان کی طرف سے تنقید کا یہ سلسلہ امریکی ٹی وی چینل فوکس نیوز پر ان کے انٹرویو کے ایک روز بعد شروع کیا گیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ڈیموکریٹس کی طرف سے یہ 'مخصکہ خیز' خبریں اس لیے پھیلائی جا رہی ہیں کیونکہ وہ انتخابات میں اتنی بری شکست کے بعد شرمسار ہیں۔
گذشتہ جمعہ کو سی آئی اے کے حکام نے امریکی ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ امریکی ہیکرز نے صدارتی انتخابات کے نتائج کو ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت میں کرنے کی کوشش کی تھی۔
ٹرمپ نے ان خبروں پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا تھا کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کہا تھا کہ صدام حسین کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقوام متحدہ میں امریکہ کے سابق سفیر جان بولٹن نے جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ نئی انتظامیہ میں امریکی وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھالیں گے، اتوار کو فوکس نیوز کو کہا تھا کہ روسیوں کی ہیکنگ کے بارے میں دعوے اصل میں 'فالس فلیگ' کارروائیاں تھیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
بش انتظامیہ کے عراق پر حملے کے سب سے بڑے حامی جان بولٹن نے مزید کہا کہ 'باہر سے دیکھنے سے مجھ پر یہ واضح نہیں ہے کہ ڈی ایس اور آر این سی کے کمپیوٹروں کو ہیک کرنے کی یہ کارروائیاں 'فالس فلیگ' کارروائیاں نہیں تھیں۔'
'فالس فلیگ' کارروائیاں وہ خفیہ کارروائیاں ہوتی ہیں جو مختلف حکومتیں اپنی مقاصد کے حصول کے لیے کرتی ہیں اور یہ تاثر دینے کی کوششیں کرتی ہیں کہ اصل میں ان کا ذمہ دار کوئی اور تنظیم، ادارہ یا حکومت ہے۔
جان بولٹن نے سوال کیا کہ اگر روسی انتخابات کے نتائج میں ہیکنگ کرنے کے پیچھے تھے تو وہ شواہد یا اپنی انگلیوں کے نشان پیچھے کیوں چھوڑتے۔
صدر براک اوباما نے ڈیموکریٹ پارٹی اور اس کی امیدوار ہیلری کلنٹن کی ایک ای میلز ہیک کرنے کے پورے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
ان ای میلز کو فوکس نیوز کو فراہم کیا گیا اور ان کی آن لائن تشہیر کی گئی جو کہ ڈیموکریٹ پارٹی کے لیے باعث شرمندگی تھا اور اس سے پارٹی کی انتخابی مہم کو شدید دھچکا لگا۔
سینیئر رپبلکن ارکان نے بھی ڈیمورکریٹ پارٹی کی طرف سے تحقیقات کرائے جانے کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔
رپبلکن سینیٹر جان مکین اور چیئرمین سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی نے اتوار کو ڈیموکریٹ ارکان کے ساتھ مل کر ایک بیان میں کہا کہ سی آئی اے کی رپورٹ تمام امریکیوں کے لیے باعث تشویش ہونی چاہیے۔










