حلب میں ’شامی فوج نے کارروائی معطل کر دی‘

حلب

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنروسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا ہے مشرقی حصے سے مزید 8000 افراد کا انخلا ہوا ہے

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا ہے کہ شام کے شہر حلب کے مشرقی حصے میں شامی افواج نے فوجی کارروائی معطل کر دی ہے۔

اس اقدام کا مقصد جنگ زدہ علاقے میں پھنسے شہریوں کا انخلا ہے۔ سرگئی لاروف کا کہنا ہے مزید 8000 افراد کا انخلا ہوا ہے۔

حکومت نواز فوجوں نے حالیہ ہفتوں میں مشرقی حلب کے 75 فیصد حصے پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا ہے جو گذشتہ چار سال سے حکومت مخالف باغیوں کے زیرانتظام تھا۔

ادھر وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ کا کہنا ہے کہ 'صورتحال کے حوالے سے ہمارا طریقہ کار یہ ہے کہ روسی جو کہتے ہیں انھیں احتیاط سے سنیں لیکن ان کے عملی اقدامات پر نظر رکھیں۔'

سرگئی لاروف کا جرمنی میں یورپی وزرا خارجہ کی ملاقات کے موقع پر کہنا تھا کہ 'میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ آج شامی افواج کی جانب سے مشرقی حلب میں فوجی آپریشنز روک دیے گئے ہیں کیونکہ ایک بڑی تعداد میں شہریوں کا انخلا ہو رہا ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ سنیچر کو روسی اور امریکی عسکری ماہرین جنیوا میں ملاقات کر رہے ہیں تاکہ حلب میں تشدد کے خاتمے کی کوئی راہ نکالی جا سکے۔

حلب

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحکومت نواز فوجوں نے حالیہ ہفتوں میں مشرقی حلب کے 75 فیصد حصے پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا ہے

امریکہ محکمہ خارجہ کی ایک ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ سرگئی لاروف نے جان کیری سے بات چیت کی ہے اور دونوں جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے تاکہ امداد کی فراہمی اور شہریوں کا انخلا ممکن ہو سکے۔ ترجمان کے مطابق سنیچر کو ہونے والی ملاقات کی 'مخصوص نوعیت' کے بارے میں 'غور کیا جارہا ہے۔'

اس سے قبل حلب میں مقامی کونسل کے رہنما نے خبردار کیا تھا کہ شہر میں 'ڈیڑھ لاکھ افراد کو موت کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔'

جنیوا میں اقوام متحدہ کے حکام کے ساتھ ملاقات میں بریتا حاجی حسن نے کہا کہ حلب میں گذشتہ چار ہفتوں میں 800 افراد ہلاک اور 3500 زخمی ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم شہریوں کے انخلا کے لیے محفوظ راستہ اور قتل، بمباری اور خون خرابے کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔'

واضح رہے کہ شامی فوج اور اس کے اتحادیوں نے اس سال ستمبر میں حلب شہر کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے ایک بڑی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔