'فیدل میرے لیے باپ کی طرح تھے'

کیوبا میں لاکھوں افراد قطار میں کھڑے ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنکیوبا میں لاکھوں افراد کاسترو کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے قطاروں میں کھڑے رہے
    • مصنف, وِل گرانٹ
    • عہدہ, بی بی سی ، ہوانا

کیوبا کے عوام کی انتظار کرنے کی خوبی

بینکوں میں، مارکیٹوں میں یا بس سٹاپ پر، میں نے کیوبا کے شہریوں کو لمبی لمبی قطاروں میں صبر کے ساتھ اور ہنسی مذاق کرتے ہوئے انتظار کرتے دیکھا ہے۔

اس غیر معمولی ہفتے کے دوران انھوں نے پھر اپنی اس قومی خوبی یا صلاحیت کا بارہا مظاہرہ کیا ہے۔

ہوانا کے سورج تلے لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے وہ ہوزے مارٹی کی یادگار تک پہنچنے کا خاموشی سے انتظار کرتے رہے تاکہ فیدل کاسترو کو خراج عقیدت پیش کریں اور سوشلزم سے اپنی وابستگی کے اقرار نامے پر دستخط کر سکیں۔

انھوں نے پوری رات ریولوشن سکوائر پر اپنے مرحوم لیڈر کے بارے میں مختلف زبانوں میں پڑھے جانے والے قصیدے بھی سنے اور اس صبر کا مظاہرہ دیکھ کر فیدل کاسترو کے بھائی صدر راؤل کاسترو نے اپنے خطاب کا آغاز مذاق میں یہ کہہ کر کیا کہ 'گھبرائیں مت، میں آخری مقرر ہوں۔'

فیدل کاسترو

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفیدل کاسترو 25 نومبر کو 90 سال کی عمر میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے تھے

ادھر ملک کے طول و عرض میں پورے کے پورے شہر اور گاؤں کے عوام گھنٹوں سڑک کے کنارے کھڑے رہے تاکہ وہ فیدل کاسترو کی راکھ لے کر گزرنے والے 'آزادی کے کارواں' کو دیکھ سکیں۔

'فیملی'

ہوانا کے معروف ساحلی علاقے ملیکوں میں لوئسا راڈریگز نے عین اسی مقام پر کارواں کا انتظار کیا جہاں انھوں نے تقریباً چھ دہائیوں پہلے کیا تھا۔

اس وقت وہ جوان تھیں اور اس بات کو پوری طرح نہیں سمجھتی تھیں کہ آخر اُن نوجوان داڑھی والے انقلابیوں کا مجمع ان کے وطن کے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ بلآخر انھوں نے انہیں وہ 'سب کچھ' دیا جس سے ان کا سائنسدان بننا ممکن ہوا۔ جیسے ہی میں نے ان سے فیدل کاسترو کے بارے میں سوال پوچھنا شروع کیا تو ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

لوئسا راڈریگز
،تصویر کا کیپشنلوئسا راڈریگز کہتی ہیں کہ کاسترو ان کی فیملی کی طرح تھے

جب وہ تھوڑا سنبھلیں تو 78 برس کی لوئسا راڈریگز نے وہی کہا جو کئی دوسرے افراد گذشتہ ایک ہفتے کے دوران کہتے آئے ہیں کہ 'فیدل میرے لیے میرے والد کی طرح تھے۔'

لیکن جب انھوں نے یہ بات اپنے حالات کی مثال دے کر کہی تو یہ باقی سب لوگوں سے مختلف لگی۔ ان کا کہنا تھا کہ 'میرے اپنے والد ایک باپ کی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ میں اپنے والد کی موت سے زیادہ فیدل کے جانے پر روئی ہوں۔'

'میری اولاد نہیں ہو سکی اور میں کسی کو گود بھی نہیں لے سکی، تو مجھے واقعی ہمیشہ ایسا لگا کہ فیدل ہی میری فیملی ہے۔'

ذمہ داریوں سے سبکدوشی

نوے برس کی عمر میں فیدل کاسترو کا انتقال کوئی حیرانی والی بات نہیں تھی اور کیوبا کے عوام گذشتہ ایک دہائی سے اس لمحے کی تیاری کر رہے تھے۔

فیدل کاسترو کے بھائی راؤل کاسترو تقریباً ایک سال بعد اپنی صدارت کی مدت ختم ہونے کے بعد اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جائیں گے اور جنوری سنہ 1959 کے بعد ایسا پہلی مرتبہ ہوگا کہ ملک کی باگ دوڑ کسی کاسترو کے علاوہ کوئی اور سنبھالے گا۔

یہ وہ لمحہ ہوگا جس کا اُس دوسرے ہوانا میں رہنے والے کیوبن افراد نے ایک لمبے عرصے انتظار کیا ہے، مایامی کی 'لِٹل ہوانا' میں رہنے والے کیوبن نے اس خواہش کے پورا ہونے کا ایک طویل انتظار کیا ہے۔

میامی میں رہنے والے کیوبن افراد جشن منا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشندائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کیوبن نژاد امریکی اس ہفتے قدرے خوش ہیں

دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کیوبن نژاد امریکی اس ہفتے قدرے خوش ہیں اور وہ ایک اور صدر کے بھی جانے کے منتظر ہیں جس کے کیوبا کے بارے میں خیالات انہیں ناپسند رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر براک اوباما کی جگہ ڈونلڈ ٹرمپ آئیں گے اور اس بات کے اشارے پہلے سے موجود ہیں کہ اپنے پیشرو کی نسبت کیوبا کے بارے میں ان کی پالیسی مختلف ہوگی۔

فیدل کاسترو کی حکومت کے واشنگٹن میں سفیر رہنے والے جیسز آربولیا کا کہنا ہے کہ 'ہم جانتے ہیں کہ امریکہ کے بغیر کیسے رہنا ہے، ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امریکہ کی مخالفت میں کیسے رہنا ہے اور ضرورت پڑی تو ہم سب کچھ ویسا ہی کریں گے جیسا پہلے تھا۔ '

وہ بھی ریولوشن سکوائر سے واپس آئے تھے اور جب میں نے ان سے پوچھا کہ کیا ٹرمپ کی انتظامیہ بہتر ہونے والے معملات کے لیے خطرہ ہو سکتی ہے؟

لیکن بہت سے کیوبنز کی طرح وہ سوگ کے ان تاریخی لمحات میں اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا 'آج میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا۔آج کا دن یادگار ہے جب دس لاکھ سے زیادہ افراد ہوزے مارٹی کی یادگار کے پاس سے گزرے ہیں۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ یہ نہیں سمجھ سکتے اور کیوبا کے عوام کا انہیں تھوڑا سے بھی احترام نہیں تو یہ ان کا مسئلہ ہے۔'

بعض افراد کا خیال ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ہوانا میں حکومت کے درمیان تمام معاملات رک جائیں گے۔ جبکہ بعض یہ سوچ رہے ہیں کہ ٹرمپ ایک کاروباری شخصیت ہیں اور شاید وہ ان کیوبنز کے لیے اچھے ثابت ہوں جو چاہتے ہیں کہ ان پر سے امریکہ کی جانب سے اقتصادی پابندیں ختم ہوں۔

سرد جنگ کے دنوں کے آخری سچے ہیرو کو الوداع کہنے والے کیوبا کے عوام ایک مرتبہ پھر اس چیز کو کرنے کے لیے تیار ہیں جو وہ بہت اچھے طریقے سے کرنی جانتے ہیں اور وہ ہے صبر کے ساتھ انتظار۔۔۔