’حلب میں شامی افواج کا باغیوں کے علاقے پر قبضہ‘

،تصویر کا ذریعہReuters
شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومتی فورسز نے مشرقی حلب میں باغیوں کے زیر کنٹرول سب سے بڑے قصبے پر دوبارہ سے قبضہ حاصل کر لیا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی حلب میں مساکین حنانو پر قبضے سے شامی فوج کو باغیوں کے زیر قبضہ دیگر علاقوں پو کنٹرول حاصل کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔
خیال رہے کہ شامی حکومت نے مشرقی حلب پر واپس قبضہ حاصل کرنے کے لیے 15 نومبر کو پیش قدمی کا آغاز کیا تھا جہاں تقریباً 275000 افراد پھنسے ہوئے ہیں۔
برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیریئن آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ اب تک اس حملے میں 212 عام شہری مارے جا چکے ہیں جن میں 27 بچے بھی شامل ہیں۔
بعض اطلاعات کے مطابق اس علاقے میں طبی سہولیات اور خوراک کی بھی قلت ہے۔
مساکین حنانو وہ پہلا علاقہ تھا جس پر 2012 میں باغیوں نے قبضہ حاصل کیا۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی صنعا کا کہنا ہے کہ ’شامی افواج اب اس قصبے پر مکمل کنٹرول حاصل کر چکی ہیں اور علاقے کو دھماکہ خریز مواد سے صاف کیا جا رہا ہے۔‘
سیریئن آبزرویٹری نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’فوجی اب مشرقی حلب کے شمالی علاقوں کو جنوبی علاقوں سے الگ کرنے سے چند میٹر ہی کے فاصلے پر ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گروپ نے مزید بتایا کہ حلب کے دیگر علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ شامی حکومت اور اس کے اتحادی روس نے رواں برس 18 اکتوبر کو حلب میں عام شہریوں اور باغیوں کو حلب چھوڑنے کی اجازت دینے کے لیے فضائی حملوں کو روک دیا تھا تاہم بہت کم افراد نے اس پر عمل کیا تھا۔
شام میں پانچ برس سے جاری لڑائی میں اب تک 250,000 سے زیادہ افراد ہلاک اور تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔








