رقہ کی جنگ امریکہ کے لیے پیچیدہ

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, جوناتھن مارکس
- عہدہ, تـجزیہ نگار، دفاعی و سفارتی امور
عراقی شہر موصل میں جاری فوجی کارروائی جب آگے بڑھ رہی ہے تو امریکی حکام نے شام میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خود ساختہ' دارالحکومت' رقہ کو آزاد کرانے کے لیے آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس وقت یہ آپریشن جاری ہے اور امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر نے اتوار کو کہا ہے کہ رقہ کا گھیراؤ یا اسے تنہا کرنا اور بلآخر اسے مکمل آزادی دلانا ہمارے اتحاد کے منصوبے کا اگلا قدم ہے۔
لیکن رقہ میں کارروائی جس کا انحصار اس وقت کرد فورسز ہر ہے اور اس سے نہ صرف ترکی کی طرف سے بلکہ کم از کم آپریشن کے ابتدائی مرحلے میں مقامی اور علاقائی مسائل کا سبب بنے گی۔
اس وقت آپریشن میں حصہ لینے والی فورسز کا صرف امتزاج ہی نہیں بلکہ اس کا حجم بھی ایک اہم پہلو ہو گا کیونکہ ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ رقہ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے قابل ذکر فوجیوں کی تعداد میسر ہے کہ نہیں۔
رقہ میں تیز پیش قدمی سے سٹریٹیجک اہمیت کی حامل

،تصویر کا ذریعہReuters
رقہ دولتِ اسلامیہ کی جانب سے خلافت کے اعلان کے بعد سے اس کا خود ساختہ دارالخلافہ ہے۔ موصل اور رقہ میں بیک وقت کارروائی گروہ کی آپریشنل منصوبہ بندی کو مشکل بنا سکتی ہے اور اس کے جنگجو خاص کر غیر ملکیوں کے فرار کو محدود کرنا ہے۔
امریکہ انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر دعویٰ کرتا ہے کہ دوسرے ممالک میں ہونے والے حملوں کی منصوبہ بندی رقہ میں کی گئی۔ تو رقہ کو تنہا کر کے وہاں سے فرار کے راستوں کو بند کرنا آپریشن کا ابتدائی ہدف ہو گا۔
لیکن رقہ موصل نہیں ہے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
عراق میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو حاصل سہولیات اس وقت شام میں میسر نہیں ہیں۔
عراق میں حکومت ہی سب مسائل کی جواب دہ ہے اور یہاں کم از کم اتحادیوں کی تسلیم شدہ حکومت ہے۔ اس کے علاوہ یہاں امریکہ کے پاس عراقی سکیورٹی فورسز کو دوبارہ کھڑا کرنے کے لیے قابل ذکر وقت اور سرمایہ موجود ہے۔
عراق میں مختلف مسلح گروہوں پر مشتمل ایک اتحاد موصل میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف آپریشن میں مصروف ہے اور امریکہ کو یہاں زمین پر ممکنہ طور پر رابط کاری اور براہ راست زمینی لڑائی میں حصہ لیے بغیر خاصی تعداد میں مشیروں اور سپیشل سکیورٹی فورسز کی تعداد میسر ہے۔
شام کی صورتحال بالکل مختلف ہے

،تصویر کا ذریعہReuters
رقہ میں اس وقت آپریشن شروع کرنے کے اعلان پر امریکہ نے تسلیم کیا ہے کہ اسے اس وقت دستیاب سب سے باصلاحیت فورسز کے ساتھ کارروائی کرنا ہے اور یہ خود ساختہ سیرئین ڈیموکریٹک فورسز یعنی ایس ڈی ایف ہے۔
یہ کرد اور عرب ملیشیا فورسز پر مشتمل اتحاد ہے اور اس نے رقہ کے شمال میں کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں لیکن اس اتحاد میں اکثریت کردوں کی پاپولر پروٹیکشن یونٹ یعنی 'وائے پی جی' کے جنگجوؤں کی ہے اور یہ تعداد بعض اندازوں کے مطابق 25 سے 30 ہزار کے قریب ہے۔
ترکی جس نے پہلے ہی اپنی فوج اور ٹینکوں کو شامی حدود میں دھکیل رکھا ہے اور یہ امریکہ کے کرد تنظیم ایس ڈی ایف کے کردار پر بنیادی اختلافات رکھتا ہے اور اس کے ساتھ رقہ میں آپریشن کے لیے تعین کردہ وقت پر بھی ایسی صورتحال ہے۔
حقیقت میں اس وقت عرب باغی جنگجوؤں کے ساتھ ترک فورسز نے شامی سرحد کے اندر شمال میں 25 کلومیٹر علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔
ترک پہلے ہی کرد جنگجوؤں کے ساتھ تنازع کا شکار ہے اور امریکہ کو اتحاد کے انتظامی امور میں سب سے بڑا مسئلہ سمجھتا ہے جب امریکہ کے اندر اس وقت یہ بحث جاری ہے کہ شام میں زمین پر کتنی تعداد میں امریکی فوجیوں کی ضرورت ہے۔
اس کے علاوہ کردوں کو بھاری ہتھیاروں سمیت امریکی اسلحے کی فراہمی پر بات چیت جاری ہے لیکن اس منصوبے کے بارے میں بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اسے ترکی کے تحفظات کی وجہ سے روک دیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ نے عرب جنگجوؤں کی بھرتی اور ان کی تربیت کی کوششوں کو تیز کر دیا ہے کیونکہ وہ رقہ میں کسی بھی آپریشن کے بعد اس کے تحفظ کے لیے عرب جنگجؤوں کو ضروری سمجھتا ہے۔
لیکن بھرتیوں کی یہ کوششیں کارگر ثابت نہیں ہو سکتی ہیں اور اس وقت تمام فورسز کو موصل میں آپریشن کرنے والی عراقی فورسز کی طرح لاجسٹک مدد اور زیادہ اندرونی حمایت حاصل نہیں ہے۔
تو اس وقت رقہ آپریشن کا مقصد شہر کے گھیراؤ کرنا ہے اور اس کے بعد کے مرحلے میں اس صورت میں حملے کے وقت کا تعین کیا جائے گا جب زمین پر قابل ذکر حد تک عرب جنگجوؤں کی تعداد میسر ہو گی۔ اس کے علاوہ اس میں ترکی سے ممکنہ سمجھوتہ اور آپریشن کے دوران رابطہ کاری کے لیے زیادہ تعداد میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی شامل ہے۔
لیکن اس آپریشن کو سیاسی حمایت کا پہلو بھی شامل نہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
موصل میں جاری آپریشن میں تمام حریف مذہبی فرقوں اور نسلی گروہوں کا ایک ہی مقصد ہے کہ شہر کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے آزاد کرا کر اس پر عراقی حکومت کی رٹ بحال کر دی جائے اگرچہ مقامی فورسز ہی آخر میں اس شہر کا کنٹرول سنبھالیں گی۔
جبکہ شام میں اس وقت ایسی حکومت قائم ہے جسے عالمی سطح پر زیادہ حمایت حاصل نہیں اور امریکی اتحاد کی دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائئ ہی صرف ایک ایسی جنگ ہے جس میں شام کی باغی فورسز، اسد حکومت، ایران، ترکی اور روس شامل ہیں۔
آخرکار رقہ پر دوبارہ قبضہ دولتِ اسلامیہ اور اس کی خلافت کے خواب کے لیے ایک بڑی شکست ثابت ہو گی لیکن شام کے مستقبل پر یہ کس طرح سے اثرانداز ہو سکتی ہے؟ یہ سوال اب بھی غیر یقینی ہے۔








