دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو زندگی چاہیے تو ہتھیار ڈال دیں: حیدر العبادی

عراقی فوجی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنعراقی افواج کی قیادت میں موصل کو دولت اسلامیہ سے واپس حاصل کرنے کے لیے آپریشن جاری ہے

سرکاری میڈیا کے مطابق عراق کے وزیر اعظم نے نام نہاد تنظیم دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں سے کہا ہے کہ اگر وہ زندہ رہنا چاہتے ہیں تو اپنے ہتھیار ڈال دیں۔

وزیر اعظم حیدر العبادی نے شہر کے مشرقی مورچے کے دورے کے دوران یہ باتیں کہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ حکوت کی قیادت والی فوجیں نہ تو واپسی کی راہ اختیار کریں گی اور نہ ہی ٹوٹیں گی۔

انھوں نے کہا کہ موصل کے عوام کے لیے ہمارا پیغام یہ ہے کہ ہم آپ کو جلد ہی آزاد کرا لیں گے۔

خیال رہے کہ یہ شہر دو سال سے بھی زیادہ عرصے سے دولت اسلامیہ کے کنٹرول میں ہے۔

موصل کے مشرقی علاقوں میں حکومتی افواج کے قدم جمانے کے بعد وزرِ اعظم العبادی نے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو ہتھیار ڈالنے کے لیے کہا ہے۔

انھوں نے کہا: دولت اسلامیہ کو میرا پیغام ہے کہ اگر وہ اپنی جان کی امان چاہتے ہیں تو انھیں ہتھیار ڈال دینے چاہیئں۔

فوج کا کہنا ہے کہ شدید مزاحمت کے باوجود حکومتی افواج نے موصل سے 15 کلومیٹر جنوب میں دریائے دجلہ کے پاس آباد قصبے حمام العلیل پر سنیچر کو قبضہ کر لیا ہے۔

موصل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنشہر کے مشرقی علاقے میں سکیورٹی فورسز اور دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے درمیان مارٹر کے گولے داغے گئے

لفٹیننٹ جنرل رائد شاکر جودت نے کہا کہ سکیورٹی افواج نے شہر کے مرکز پر قبضہ کر لیا ہے تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو وہاں سے پوری طرح بھگا دیا گیا ہے یا نہیں۔

موصل کو واپس حاصل کرنے کے لیے آپریشن جاری ہے اور حکومتی افواج الزہرہ سیمت مشرقی اضلاع کی صفائی کرنے کی کوششوں میں ہے۔ جمعے کو وہ اس علاقے میں داخل ہوئے تھے۔

حکومتی فورسز اور دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے رہائشی علاقوں کی چھتوں سے ایک دوسرے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی اور مارٹر کے گولے بھے داغے گئے۔ سب سے شدید لڑائی البکر کے علاقے میں دیکھی گئي۔