آسٹریلیا میں بس میں آگ لگنے سے ڈرائیور ہلاک

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/MANEET ALISHER
آسٹریلیا میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ برسبین میں ایک بس کا انڈین نژاد ڈرائیور ایک مسافر کی جانب سے پھینکے جانے والے مادے کی وجہ سے لگنے والی آگ میں جل کر ہلاک ہو گیا ہے۔
بس میں آگ لگنے کی وجہ سے دھواں بھر گیا اور ایک ٹیکسی ڈرائیور نے اس کا عقبی شیشہ توڑ کر چھ مسافروں کو باہر نکلنے میں مدد دی۔
امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسے 11 افراد کو طبی امداد دی ہے جنھیں زخم آئے یا وہ دھوئیں کا شکار ہوئے۔
پولیس نے اس سلسلے میں ایک 48 سالہ شخص کو گرفتار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ دہشت گردی کا معاملہ نہیں۔
ہلاک ہونے والے بس ڈرائیور کی شناخت 29 سالہ منمیت علی شیر کے طور پر کی گئی ہے جو برسبین میں مقیم انڈین کمیونٹی میں معروف تھے۔
منیمت کے دوستوں نے انھیں باصلاحیت گلوکاراور اچھا ڈانسر بتایا۔ ان کی منگنی ہو چکی تھی اور جلد ہی شادی بھی ہونے والی تھی۔

،تصویر کا ذریعہACB
پولیس افسر جم کیوگ نے اس بارے میں صحافیوں سے بات چیت میں کہا: 'میں نے کئی طرح کی صورت حال کا سامنا کیا ہے لیکن یہ تو اتنی عجیب ہے کہ لگتا ہے اس کے پیچھے کوئی وجہ ہی نہیں ہے۔'
'ایک بس ڈرائیور جو اپنا کام کرتا ہے، اپنی برادری کا حامی ہے، اس کی زندگي غیر ضروری عمل سے بغیر کسی وجہ کے چھین لی گئی۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹیکسی ڈرائیور ایگویک نیوک نے باقی مسافروں کو بس سے نکالنے میں مدد کی۔
انھوں نے ایک مقامی اخبار کو بتایا: 'سبھی لوگ بس کے پیچھے تھے اور بس سے باہر آنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن چونکہ بس آگے سے جل رہی تھی اور اس سے شعلے نکل رہے تھے وہ باہر نہیں نکل پا رہے تھے۔'
وہ پیچھے کا دروازہ بھی نہیں کھول پارہے تھے تو میں نے باہر سے لات مار کر اسے گرا دیا پھر وہ باہر نکل پائے۔'
29 سالہ ڈرائیور کے اعزاز میں انتظامیہ نے شہر میں پرچم سرنگوں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔







