پِگ وار: جب ایک لاوارث سؤر کی وجہ سے برطانیہ اور امریکہ کے درمیان جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی

جزیرہ
    • مصنف, برینڈن سینسبری
    • عہدہ, بی بی سی ٹریول

چراہ گاہوں، کھیتوں اور لکڑی کے خوبصورت گوداموں والا سان جوآن جزیرہ جو واشنگٹن میں سان جوآن جزائر کا دوسرا سب سے بڑا جزیرہ ہے، ایک پُرسکون مقام ہے۔ یہاں کوئی شور شرابہ نہیں ہوتا۔

یہاں کے پانیوں میں آپ کو وہیل اُچھلتی نظر آتی ہیں اور مغرب میں کینیڈا کے وینکوور جزیرے کا جنوبی ساحل محض سات میل سے بھی کم فاصلے پر چمکتا دکھائی دیتا ہے۔

یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ امریکہ کے اس الگ تھلگ کونے میں سنہ 1859 میں، ایک جنگلی سؤر کی وجہ سے برطانیہ اور امریکہ کے بیچ تقریباً جنگ چھڑ گئی تھی۔

یہ سب ایک سرحدی تنازعے سے شروع ہوا۔ سنہ 1846 میں اوریگون معاہدے کی رو سے بحرالکاہل کے شمال مغرب میں 49 ڈگری عرض البلد کو برطانوی اور امریکی علاقوں کے درمیان باضابطہ سرحد قرار دیا گیا لیکن وینکوور جزیرے کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا، جسے 49 ڈگری عرض البلد سے نیچے ہونے کے باوجود برطانوی حصہ قرار رہنے کی اجازت تھی۔

معاہدے کی رو سے سرحد میں اس کی حد مغربی سرحد ’ندی کے وسط سے جو براعظم کو وینکوور کے جزیرے سے الگ کرتی ہے‘ کے ذریعے مقرر کی جانا تھی لیکن جیسا کہ سیلش سمندر کے پانیوں میں بہت سے چھوٹے جزیرے اور کئی مختلف ندی نالے بہہ کر آ رہے تھے، اس لیے کوئی بھی اس بات پر متفق نہیں ہو سکا کہ اصل سرحد کون سی ہے۔

ایک ایسا جزیرہ جس پر دونوں فریق قبضے کا دعویٰ کر رہے تھے، سان جوآن ایک سنگین سفارتی بحران کا مرکز بن گیا۔

آج جزیرے کا امن قائم ہے اور تقریباً دو صدیوں بعد میں نے جزیرے کی واحد بستی، فرائیڈے ہاربر سے کرائے کی سائیکل پر جنوب کی طرف سفر شروع کیا۔

یہ جولائی کا ایک گرم دن تھا اور میں امریکی کیمپ کی طرف جا رہا تھا، جو کہ نام نہاد ’پگ وار‘ کے لیے وقف قومی تاریخی پارک کا حصہ تھا۔

کئی ہفتے پہلے پارک نے ایک نیا وزیٹر سینٹر کھولا تھا اور میں یہ جاننے کے لیے متجسس تھا کہ کس طرح ایک لاوارث سؤر کی موت نے تقریباً ایک بین الاقوامی تنازعے کو جنم دیا تھا۔

جزیرہ

،تصویر کا ذریعہBrendan Sainsbury

امریکی کیمپ جزیرے کے سب سے جنوبی مقام پر فرائیڈے ہاربر سے چھ میل جنوب میں ایک ہموار سڑک پر واقع ہے۔ یہ سڑک جھاڑیوں سے بھرے کھیتوں سے نکلتی ہے۔

سنہ 1853 میں اس جزیرے پر اس وقت کھیتی باڑی شروع کی گئی تھی جب برطانیہ کے زیر انتظام ہڈسن بے کمپنی نے بیلے ویو شیپ فارم کی بنیاد رکھی تھی جس کا مقصد خطے میں قدم جمانا اور سان جوآن جزیرہ نما پر حریف امریکی دعوؤں کو ناکام بنانا تھا۔

جب برطانوی شہریوں کو اس کاروبار میں فائدہ ہونے لگا تو امریکیوں نے فیصلہ کیا کہ انھیں بھی اس میں حصہ چاہیے اور پانچ سال کے اندر ایک درجن سے زیادہ امریکی آباد کاروں نے یہاں کی زمین پر حقوق کا دعویٰ کرنے کے لیے سفر کیا تھا۔ برطانوی شہریوں نے ان درخواستوں کو غیر قانونی سمجھا۔

یہ کشیدگی قابو میں تھی مگر 15 جون 1859 کو لیمن کٹلر نامی ایک امریکی آباد کار نے غصے میں ایک سور کو گولی مار دی جو خوارک کے حصول کے لیے اُن کے باغ میں آن نکلا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

خوش قسمتی سے یہ ’گستاخ‘ جانور انگریزوں کا تھا، جو اس واقعے سے اتنے مشتعل ہوئے کہ انھوں نے امریکی آباد کاروں کو اجتماعی طور پر بے دخل کرنے کی دھمکی دی۔

امریکیوں نے فوجی تحفظ کا مطالبہ کیا۔ اُن کی اس درخواست کا جواب دیتے ہوئے کیپٹن جارج پکیٹ (جو بعد میں امریکی خانہ جنگی میں کنفیڈریسی کے لیے لڑے) کو جزیرے کی طرف روانہ کیا گیا، 27 جولائی کو وہ موجودہ امریکی کیمپ کے قریب 64 افراد کی فوج کے ساتھ اترے۔

جب پکیٹ نے اپنے فوجیوں کی تعداد 450 تک پہنچائی تو انگریزوں نے اس علاقے میں تین جنگی جہاز بھیج کر جواب دیا۔ صوتحال کو مزید خراب کرتے ہوئے انگریزوں نے سان جوآن جزیرے پر براہ راست مشقیں شروع کر دیں۔ بحری جہاز، فیلڈ گنز اور میرینز ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔

مستقبل میں واپس آتے ہیں، جہاں میں امریکی کیمپ میں فری وہیل چلاتے داخل ہوا اور لکڑی اور شیشے کے نئے عالیشان وزیٹر سینٹر کی تعریف کرنے کے لیے رک گیا۔

باہر گرافک پینلز پر نقشے اور مقامی علامات لگائی گئی تھیں جبکہ اندر لگی تصاویر اور کہانیاں کٹلر کی خطرناک گولی ’سے لے کر تنازعہ کے دہانے تک‘ بحران کی وضاحت کرتی تھیں۔

تو دو طاقتیں جنگ کے کتنے قریب تھیں؟

جزیرہ

،تصویر کا ذریعہBrendan Sainsbury

پارک کے ایک ترجمان رینجر سائرس فارمن نے بتایا کہ ’خوفناک حد تک۔۔۔‘

وہ کہتے ہیں کہ برٹش کولمبیا میں شاہی اتھارٹی گورنر جیمز ڈگلس نے رائل نیوی کو حکم دیا کہ وہ جارج پکیٹ کی فوج میں شامل کسی بھی امریکی کو گولی مار دیں۔

برطانیہ کے کیپٹن جیمز پریووسٹ نے ان احکامات پر عمل کرنے کا سوچا لیکن جب انھوں نے حقیقت میں امریکیوں کو اترتے دیکھا تو وہ ہچکچاہٹ کا شکار ہوئے اور گولی نہ چلا سکے۔

اکتوبر 1859 میں جب ’پگ وار‘ کی خبر واشنگٹن پہنچی تو صدر نے اس تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے مغرب کے طویل سفر پر سینئر سفیر بھیجے۔ ان کی آمد نے فوری طور پر کشیدگی کو کم کرنے میں مدد کی اور بالآخر جنگ بندی کے حق میں فوجی کارروائی سے گریز کیا گیا۔

فورمین نے وضاحت کی کہ ’جنگ کو روکنے کا سب سے زیادہ سہرا دو آدمیوں کو دیا جاتا ہے۔‘

بحرالکاہل میں رائل نیوی فورسز کے کمانڈر ایڈمرل لیمبرٹ بینس، جنھوں نے گورنر ڈگلس اور برٹش کولمبیا لیجسٹرار کے شدید دباؤ کے باوجود کسی قسم کی دشمنی میں ملوث ہونے سے انکار کر دیا اور جنرل ونفیلڈ سکاٹ، جنھوں نے نیویارک شہر سے سان جونز کا سفر کیا، جہاں انھوں نے مشترکہ قبضے کا ایک معاہدہ کیا جس نے دونوں فریقوں کو اس قابل بنایا کہ وہ 12 سال کے لیے سان جوآن جزیرے پر خوش اسلوبی سے رہ سکیں تاکہ سفارتی عمل مکمل ہو سکے۔

جزیرہ

،تصویر کا ذریعہBrendan Sainsbury

نیا وزیٹر سینٹر جسے جون 2022 میں کھولا گیا، تاریخی سیاق و سباق کے لحاظ سے تنازعہ کی سفارتی کوششوں کو بیان کرنے کا بہترین کام کر رہا ہے۔

برسوں سے ’پگ وار‘ کے بارے میں برطانوی اور امریکی دشمنی پر مبنی کہانیاں مشہور ہیں لیکن یہ کہانیاں ایک اہم حصے کو نظر انداز کرتی ہیں: وہ اہم حصہ جزیرے کے ساحل میں مقامی سیلش لوگوں کی زندگیاں ہیں جو بحرالکاہل کے شمال مغرب میں ہزاروں سال سے یورپیوں کی آمد سے پہلے آباد تھے۔

بحران کے دوران ان کی سرزمین پر کھینچی گئی من مانی سرحد نے مقامی قبائل کو بے گھر کر دیا اور ان کی ثقافت اور معاشی حالات پر بہت زیادہ اثر ڈالا۔

نئی نمائشوں میں ایک ایسی دیوار بھی شامل ہے جس میں قبل از آباد کاری سیلش ساحل کی زندگی کے مناظر کی عکاسی کی گئی ہے اور چھت سے لٹکی ایک شاندار مقامی چھوٹی کشتی (کینوئی) ’لومی نیشن کارور واشنگٹن‘ کا کام ہے۔

مرکز کے تصور اور نئی نمائشوں کے پارک سپرنٹنڈنٹ الیکسس فریڈی نے وضاحت کی کہ ’ہمارا مقصد اس غیر معمولی خاص جگہ کے لیے ایک ایسی سہولت تیار کرنا تھا تاکہ ثقافتوں کے ماضی، حال اور مستقبل کا احترام کیا جا سکے۔‘

اس منصوبے کی منصوبہ بندی کوسٹ سیلش ٹرائب کے ساتھ براہ راست تعاون سے کی گئی تھی اور دیوار کے سامنے سات پیچیدہ طریقے سے سجے ہوئے کینو پیڈلز (چپو)، جن میں سے ہر ایک مختلف قبیلے سے ہے، آویزاں کیے گئے ہیں۔

سان جوآن جزیرے پر مشترکہ قبضہ سنہ 1859 سے 1872 تک جاری رہا، اس دوران برطانوی اور امریکی فوجی جزیرے کے دونوں سروں پر الگ الگ کیمپوں میں پرامن طور پر ایک ساتھ رہے۔ ان کے درمیان تعلقات بہت جلد خوشگوار ہو گئے۔

جزیرہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وزیٹر سینٹر سے نکل کر میں امریکی کیمپ اور فوجی اڈے کی باقیات کو تلاش کرنے کے لیے نکلا جو سنہ 1859 کی جنگ بندی کے بعد بنی تھی۔ کسی زمانے میں اس مقام پر ایک درجن سے زائد عمارتیں کھڑی تھیں لیکن اب صرف تین باقی ہیں۔

گھاس سے بھرے میدانوں میں گھومتے ہوئے میں دو سابقہ ​​افسروں کے کوارٹروں کے پاس سے گزرا جن کے چاروں طرف سفید پٹی والی باڑ تھی اور میں نے کسی زمانے میں متنازعہ رہنے والی آبنائے ہارو کے پار کینیڈا کی طرف دیکھا۔

کیمپ کے بارے میں کچھ ظاہری یاد دہانیاں موجود ہیں اور ترتیب وار لگائے گئے سائن بورڈز کا ایک سلسلہ تاریخ کو زندہ کرنے میں مددگار ہے۔ جنوب کی طرف ایک راستہ کئی دیگر پگڈنڈیوں، ساحلوں اور لائٹ ہاؤس تک جاتا ہے۔

جزیرے کے باقی حصوں کے برعکس پارک میں بہتر ماحولیاتی نظام موجود ہے اور انتہائی نایاب تتلی کی واحد آبادی یہاں پائی جاتی ہے۔

مزید پڑھیے

Karen Reagan/USFWS

،تصویر کا ذریعہKaren Reagan/USFWS

چہل قدمی کرنے کے بعد میں نے اپنی سائیکل کو ساحلی سڑکوں کے ساتھ 13 میل کے فاصلے پر انگلش کیمپ تک موڑ دیا جو جزیرے کے شمال مغربی کنارے پر واقع پارک کا دوسرا کیمپس ہے۔

جنگلوں سے گھرے اس کیمپ کی تزئین امریکی کیمپ کے کھلے میدانوں سے بہت مختلف تھی۔ دونوں اڈوں میں سے انگلش کیمپ کو زیادہ پر تعیش سمجھا جاتا تھا۔ افسروں کو ایک پہاڑی پر لکڑی کے صاف ستھرا مکانات میں رکھا گیا تھا، جس کے نیچے ایک باغ تھا۔

کوارٹر تو اب نہیں رہے لیکن باغ کا کچھ حصہ باقی ہے۔ کسی زمانے میں ایک فوجی سڑک دونوں کیمپوں کے درمیان سے گزرتی تھی، جسے ایک مقامی ٹریل کمیٹی فی الحال بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

1859 کے بعد، امریکی اور برطانوی اس سرحدی تنازع کا تسلی بخش حل تلاش کرنے کے لیے ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک کوششیں کرتے رہے۔ فورمین نے مجھے بتایا کہ ’بالآخر انھوں نے فیصلہ کیا کہ انھیں ایک غیر جانبدار ثالث کے ذریعے ثالثی کی ضرورت ہے۔‘

جرمنی کے قیصر ولہیم کو ریفری کے طور پر رکھا گیا تھا اور انھیں ممکنہ سرحد کے طور پر دو مختلف سمندری راستوں میں سے انتخاب کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا: آبنائے ہارو جسے امریکیوں نے ترجیح دی یا روزاریو آبنائے جسے انگریزوں نے ترجیح دی۔

بالآخر، انھوں نے آبنائے ہارو کا انتخاب کیا اور ستمبر 1872 میں برطانوی میرینز نے اپنا سامان باندھ لیا کیونکہ سان جوآن جزیرے اور اس کے پڑوسی جزائر پرامن طریقے سے امریکہ کے حوالے کر دیے گئے تھے۔

جزیرہ

،تصویر کا ذریعہBrendan Sainsbury

جب میں فرائیڈے ہاربر پر واپس جانے کی تیاری کر رہا تھا تو میں نے انگلش کیمپ پر ایک آخری نظر ڈالی جہاں تاریخی روایت کی تائید میں یونین کا جھنڈا اب بھی لہرا رہا ہے۔

سنہ 1872 میں تنازعہ کے حل کے 150 سال بعد یہ سمجھنا آسان ہے کہ اس سب کی شروعات محض ایک سور سے ہوئی تھی لیکن اگر جنگ چھڑ جاتی تو دونوں ممالک کو بہت بڑی قیمت چکانا پڑ سکتی تھی۔

شکر ہے ٹھنڈے مزاج والے لوگوں کی بات سنی گئی اور آج سان جوآن جزیرے کا تاریخی پارک اس یاد دہانی کے طور پر کھڑا ہے کہ جنگ (چاہیے اس کی شروعات کسی جانور سے ہو رہی ہو) کو روکا جا سکتا ہے۔