میکسیکو: ’سبز سونا‘ پیدا کرنے والی جاگیریں جو اب کھنڈرات میں بدل چکی ہیں

،تصویر کا ذریعہEgle Gerulaityte
- مصنف, ایگلے گیرولائٹائٹ
- عہدہ, بی بی سی ٹریول
جب میں گہرے جنگل سے اپنا راستہ بناتے ہوئے جا رہی تھی تو میں نے پتھر کی ایک خستہ حال دیوار دیکھی جو آہستہ آہستہ بیلوں اور درختوں سے گھرتی جا رہی تھی۔
یہ دیوار ایک زمانے میں ضرور ایک برآمدہ رہی ہو گی۔ یہ ایک بڑی ہیسیئنڈا کا حصہ تھی۔ ہیسیئنڈا ہسپانوی علاقوں اور ممالک میں ایسی وسیع و عریض و سرسبز زمینوں کو کہا جاتا ہے جن میں رہنے کے لیے گھر بھی ہوا کرتے ہیں۔
یہ جگہ یوکاتان کی ان کئی شاندار جائیدادوں میں سے تھی جنھیں انیسویں صدی میں ہینیکوئین کی صنعت سے حاصل ہونے والی دولت سے تعمیر کیا گیا تھا۔
ہینیکوئین میکسیکو کا ایک مقامی پودا ہے جس کی مدد سے رسیاں اور دھاگے بنائے جاتے ہیں جبکہ مقامی شراب کی تیاری میں بھی اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔
اب یہ جگہ اپنی ماضی کی شان و شوکت کی صرف ایک پرچھائی بن کر رہ گئی ہیں۔
میں میکسیکو کے جزیرہ نما یوکاتان میں ایک موٹرسائیکل ٹور کے دوران اتفاق سے ان کھنڈرات تک آ پہنچی تھی۔ میری توقع تھی کہ موٹرسائیکل ٹرپ کے دوران میں میکسیکو کی مشہور اور قدیم مایا تہذیب کی سائٹس اور زیرِ زمین قدرتی آبی ذخائر تک لے جانے والے راستوں کو دیکھوں گی جنھیں سینوٹس کہا جاتا ہے۔
مگر ایک مقامی گائیڈ مجھے مرکزی سڑکوں سے ہٹا کر ایک سرسبز و شاداب جنگل میں لے گیا جہاں اس نے مجھے یوکاتان کی تاریخ اور ورثے کی ایک اور پرت دکھائی، یعنی یہاں کی متروکہ ہینیکوئین ہیسیئنڈاز۔
کم ہی لوگ ان کے بارے میں جانتے ہیں لیکن پورے جزیرہ نُما یوکاتان میں ایسی سینکڑوں ہیسیئنڈاز ہیں جن میں سے کئی تو ہزاروں ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہیں۔ کسی زمانے میں یہ اس جزیرہ نما کی دولت اور قوت کی علامت تھیں مگر 1950 کی دہائی میں اچانک آنے والی بدقسمتی کے باعث انھیں ترک کر دیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کچھ کھنڈرات تو سڑک سے بھی نظر آتے ہیں جبکہ کچھ مقامی گائیڈ کی معلومات اور ایک باریک بین نظر کے محتاج ہوتے ہیں۔ اور جہاں کچھ کو بس مکمل طور پر قدرت کے حوالے کر دیا گیا ہے وہیں کچھ کو ایک نئی زندگی بھی ملی ہے۔
اگلے دو دنوں میں میں نے میریڈا کے جنوب میں 165 کلومیٹر دیہی سڑکوں کی نشاندہی کی اور چار مختلف ہیسیئنڈاز گئی۔ ہر کسی کی اپنی ایک منفرد تاریخ تھی، کچھ بالکل تباہ حال تھیں تو کچھ کی خوبصورت تعمیرِ نو کی گئی تھی۔
جب میں میریڈا کے جنوب مشرق میں تقریباً 60 کلومیٹر دور واقع قصبے ہومن سے گزری تو شاہراہ نے مجھے ایسی خوابیدہ بستیوں تک پہنچا دیا جن کی سڑکیں اب بھی ناہموار اور کچی تھیں جبکہ جنگل اور سڑکیں بالکل ایک ہو چکے تھے۔ گرمی اور نمی کسی سزا جیسے سخت تھے۔ جب میں اپنی پہلی تاریخی ہیسیئنڈا کیمپیپین کے قریب پہنچی تو خاموشی نہایت پراسرار محسوس ہونے لگی۔

،تصویر کا ذریعہEgle Gerulaityte
انیسویں صدی یوکاتان کے لیے زبردست دولت اور ثروت کا دور تھا، جس کی وجہ مقامی طور پر اگنے والا ہینیکوئین کا پودا تھا جو رسیاں بنانے کے لیے نہایت کارآمد تھا۔ چنانچہ کشتی سازی اور زراعت میں اس کا بے تحاشہ استعمال ہوتا۔ ہینیکوئین دھاگے اتنے مضبوط ہوا کرتے کہ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں یوکاتان میں کسی بھی دوسرے خطے کے مقابلے میں زیادہ امریکی سرمایہ کاری ہوئی۔
یہ وہ دور تھا جب شمالی امریکہ میں گندم کی پیداوار اور کشتی سازی کی صنعت پھل پھول رہی تھی اور یوکاتان کے دھاگے کی بے حد طلب تھی۔ جب ہینیکوئین کی پیداوار میں اضافہ ہوا تو اسے 'سبز سونا' کہا جانے لگا اور یوکاتان میکسیکو کی امیر ترین ریاست بن گئی۔ سنہ 1915 تک یوکاتان کی 70 فیصد سے زیادہ زمین پر ہینیکوئین اگایا اور پراسیس کیا جا رہا تھا اور اس پودے کی 12 لاکھ سے زیادہ بیلز برآمد کی گئیں۔
اس دوران ہیسیئنڈاز کے حجم اور پیچیدگیوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ ان میں وسیع و عریض میدان شامل ہوئے جن میں ہینیکوئین کے پودے، پراسیسنگ پلانٹس، گرجا گھر، سٹور اور ملازمین کے کوارٹرز شامل ہونے لگے۔ کئی طرح سے یہ ملک کے اندر خود مختار ممالک تھے، کچھ میں تو اپنی کرنسی اور اپنے قوانین بھی نافذ ہو چکے تھے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ ان ہیسیئنڈاز کا انتظام ہسپانوی نسل کے دولت مند جاگیرداروں کے ہاتھ میں ہوتا جو مقامی مایا افراد پر بے پناہ اثر و رسوخ رکھتے اور اکثر اوقات ان سے جبری مزدوری بھی کرواتے۔
یوکاتان کے سینٹر فار ریسرچ اینڈ ہائیر سٹڈیز ان سوشل اینتھروپولاجی میں مؤرخ اور محقق لارا ماچوکا گیلیگوس نے بتایا: 'مقامی افراد ہیسیئنڈاز سے اس قرض کے باعث بندھے رہتے جو وہ کسی نہ کسی مجبوری کے باعث اٹھا لیتے تھے۔ کچھ جاگیروں میں تو زمیندار اپنے ملازمین کا خیال رکھتے تھے مگر کچھ میں حالات اتنے برے ہوتے کہ ان ملازمین کے بچے اب اس دور کو غلامی سے تعبیر کرتے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہEgle Gerulaityte
جب 1920 کی دہائی میں میکسیکن انقلاب آیا تو اس سے معاشرے میں کئی اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ مقامی لوگوں کا استحصال ناقابلِ قبول قرار پایا، نئی حکومت کی زرعی اصلاحات نے چند امیر لوگوں کے ہاتھ میں موجود بڑی جاگیروں کے ٹکڑے کر دیے اور ہینیکوئین کے زیادہ تر کھیت سرکاری تحویل میں چلے گئے۔
اس کے علاوہ امریکہ نے بھی خود کو میکسیکن ہینیکوئن پر انحصار سے آزاد کرنے کے لیے دیگر منڈیوں کی جانب دیکھنا شروع کیا اور پھر پہلی عالمی جنگ کے بعد آنے والی کساد بازاری 'دی گریٹ ڈپریشن' نے تجارت کو سست کر دیا۔
سنہ 1938 تک ہینیکوئین کی صنعت پر یوکاتان کی اجارہ داری ختم ہو گئی اور دولت کا دور ختم ہو گیا۔ ہیسیئنڈاز بھی اس غربت سے نہ بچ سکیں اور 1950 کی دہائی تک زیادہ تر کو ترک کر کے تباہ ہونے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
گیلیگوس کہتی ہیں کہ 'جب صنعت تباہ ہوئی تو زیادہ تر ملازمین ہیسیئنڈاز کے آس پاس ہی رہے اور اُنھوں نے اپنی مقامی آبادیاں بنا لیں۔ اور جہاں تک ہیسیئنڈاز کی بات ہے تو وہ اب بھی نجی ملکیت میں ہیں، انھیں ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے خریدار کو فروخت کیا جاتا رہا ہے۔ آج بھی ہیسیئنڈاز کے مالکان (ہسپانوی نسل کے) میکسیکن یا غیر ملکی ہیں۔ مجھے ایک بھی ایسی ہیسیئنڈا کا علم نہیں جو کسی مایا کی زیرِ ملکیت ہو۔'

،تصویر کا ذریعہEgle Gerulaityte
ہیسیئنڈا کیمپیپین میری ڈی آئی اے پگڈنڈی کے ساتھ سب سے زیادہ دلچسپ مقامات میں سے ایک تھی - یہ ایک اوپن ایئر ہسٹری میوزیم جیسی کوئی جگہ ہے۔ سمتبر 2018 میں دیسارولس تورسٹیکوس یوکتان کی ملکیت میں مقامی تاجروں کے ایک گروپ کیمپپپن نے اسے سیاحوں کے لیے کھولا تھا اور انھوں نے اور ان کھنڈرات، سینوٹس اور غاروں سے بنی 1.2 کلومیٹر کی پگڈنڈی کے ساتھ ایک چھوٹی کیمپ سائٹ اور گائیڈڈ واک کو ٹور کا حصہ بنایا۔
1823 میں تعمیر کیا گیا مرکزی گھر فرانسیسی طرز پر بنا ہے جس کا فرش پتھر کا ہے، لیکن چھت بہت پہلے منہدم ہو گئی تھی اور کچھ باقی دیواریں آہستہ آہستہ پودوں کے نیچے ختم ہوتی نظر آتی ہیں۔
صحن میں گھومتے ہوئے میں نے ہینیکون پروسیسنگ رومز میں بھاپ کی مشینری کی باقیات دیکھی، اور وہیں پر نوآبادیاتی ہسپانوی دور میں مایا کے اثر و رسوخ کی جھلک بھی نظر آئی۔ ایلکس کے لیے پتھر کی چھوٹی قربان گاہیں ‘مایا ووڈ لینڈ سپرٹ‘ پرانے کنوؤں کے ساتھ تعمیر کی گئی تھیں۔
کیمپیپین کی منتظم ویرونیکا اونیڈا ٹوریز نے مجھے بتایا کہ کیمپیپین دراصل مایا زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ’پیلی تتلی‘ ہے۔

،تصویر کا ذریعہEgle Gerulaityte
وہ کہتی ہیں کہ یہاں تقریباً 40 افراد بستے ہیں ’جن میں سے اکثر اب بھی قدیم زبان بولتے ہیں۔ ہمارے گائیڈ سیاحوں کو سیر کے دوران قدیم مقامی تاریخ کے ساتھ ساتھ قصے کہانیاں بھی سناتے ہیں اور ان تجربات کے بارے میں بتاتے ہیں جیسا کہ ایلوکس اور ہوائے پیک کی کہانی جو ایک ایسے جادوگر کی داستان ہے جو ایک کتے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔‘
ویرونیکا اونیڈا ٹوریز کا کہنا ہے کہ ان زمینوں کے مالکان تو ہسپانوی تھے لیکن یہاں ہمیشہ سے ہی مایا تہذیب کے لوگ رہے ہیں۔
’سیاحوں کے لیے کھلے اکثر ہیسیئنڈا میں مایا ملازمین ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ مایا تاریخ کے دو پہلو ہیں، ایک جانب چند مورخین نے غربت اور ہیسیئنڈا کے مظالم بیان کیے تو دوسری جانب کچھ تاریخ دان ایسے بھی ہیں جو مایا لوگوں کو ماہر ایجنٹ کے طور پر دکھاتے ہیں۔ میرے ذاتی خیال میں مایا لوگ ایک ایسی کہانی کے مستحق ہیں جو یہ دکھائے کہ وہ کیسے متحرک ہوئے اور کس طرح تاریخی اعتبار سے متحد رہے۔ ہیسیئنڈا یہ کہانی بتانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔‘
میں نے جن ہیسیئنڈا کا دورہ کیا وہ ایک پیچیدہ ماضی کی داستان یقینا سناتے ہیں لیکن کیمپیپین کی طرح یاکوتان کی تمام زمینوں کو دوسری زندگی نہیں ملی۔

،تصویر کا ذریعہEgle Gerulaityte
اویالاسیہ ہیسیئنڈا صرف 50 کلومیٹر دور مغرب میں واقع ہے لیکن اب مکمل طور پر بے یار و مددگار ہے۔ مجھے یہاں گھومتے ہوئے پرندے اور چمگادڑیں دکھائی دیں جنھوں نے ستونوں میں گھونسلے بنا رکھے تھے۔ وہ جگہ جہاں کبھی شاندار گیلریاں تھیں اب جنگلی جھاڑیاں اگ چکی تھیں۔ یہاں کوئی بند دروازے یا ٹکٹ دفتر نہیں تھا۔
اس کے برخلاف کچھ ہی فاصلے پر موجود ہیسیئنڈا یاکسوپوئل، جو کبھی بائیس ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلی جاگیر تھی، اب ایک ہوٹل اور شادی ہال میں تبدیل ہو چکی ہے۔ یہاں موجود مایا تہذیب کے نمونوں سے سجی گیلری بھی ہے جہاں کی سیر بھی کروائی جاتی ہے اور تاریخ کا سبق بھی سنایا جاتا ہے۔
سوٹوٹا ڈی پیون ہیسیئنڈا بھی ایک ایسی ہی جاگیر ہے جس کو سیاحتی مقاصد سے ازسرنو تیار کیا گیا ہے۔ یہاں ایک پرآسائش ہوٹل بنا دیا گیا ہے جہاں تاریخ کا تجربہ کیا جا سکتا ہے۔
گیلیگوس بتاتی ہیں کہ ان تمام تبدیلیوں میں حکومت کا کوئی کردار نہیں رہا۔ ’میوزیم یا ہوٹل بنانے جیسی کوششیں چند افراد نے ذاتی حیثیت میں کیں یا پھر چند تنظیموں نے حصہ ڈالا۔‘
یاکوتان میں متعدد اور ہیسیئنڈا بھی موجود ہیں اور زیادہ مہم جوئی کے شوقین مقامی افراد سے ان کا پتہ معلوم کر سکتے ہیں۔
ان میں سے چند تک تو بس یا ٹیکسی کے ذریعے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے لیکن چند تک پہنچنے کے لیے جیپ یا پھر موٹرسائیکل درکار ہوتی ہے۔
لیکن ان کی موجودگی کا احساس ہر جگہ ہے اور یہ طاقت، دولت، ظلم اور بربادی کی ایسی کہانی ہے جو اب آہستہ آہستہ ازسرنو تعمیر اور یادگار کی داستان میں بدل رہی ہے۔












