روڈریگیز: بحرِ ہند کا خاموشی میں مزے لیتا وہ جزیرہ جسے وقت نے فراموش کر دیا

رودرِیگز

،تصویر کا ذریعہJon Arnold Images Ltd/Alamy

    • مصنف, اینتھونی ہیم
    • عہدہ, بی بی سی ٹریول

آتش فِشاں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جزیرۂ روڈریگیز کے میرے پہلے سفر میں جب جہاز نے اترنے کے لیے پہلو بدلا تو مجھے یقین سا ہو گیا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ نیچے حدِ نظر تک بحرِ ہند پھیلا ہوا تھا۔ خشکی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تھے، ایک ایسے رن وے کو تو بھول ہی جائیں جس پر 737 ہوائی جہاز بحفاظت اتر سکے۔ مجھے خیال آیا کہ پائلٹ ہمیں کہاں پر اتارنے کا سوچ رہا ہے؟

میں نے جہاز کے اندر نظر دوڑائی۔ سب لوگ پر سکون تھے۔ مقامی لوگ سوئے رہے یا بچوں کو بے فکری سے گود میں لے لیا۔ کپتان کی طرف سے سوائے اس کے کوئی اعلان نہیں کیا گیا کہ مسافر اپنی حفاظتی بیلٹ باندھ لیں اور عملہ لینڈگ کی تیاری کرے۔ میں نے گہرا سانس لیا۔

دس یا شاید 15 منٹ کے طویل انتظار کے بعد نیچے کی یکسانیت ٹوٹی اور پانی پر کئی کلومیٹر لمبی لہروں کی کمان سی نمودار ہوئی جو ساحل سے ٹکرانے کے بجائے سمندر ہی میں غائب ہو گئی۔ اس کے بعد کہیں جا کر جزیرے کے مغربی حصے میں روڈریگیز کا خوابیدہ ایئرپورٹ نظر آیا۔

ماریشس کے شمال مشرق میں 600 کلومیٹر خشکی سے دور واقع جزیرۂ روڈریگیز کی اپنی ہی ایک دنیا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے دور واقع علاقہ ہے جہاں لوگ بھی رہتے ہیں۔

مغربی جانب سے آتے ہوئے اگر اسے اوپر سے دیکھا جائے تو یہ حیرت انگیز طور پر خوبصورت نظر آتا ہے، جہاں سمندر پھیلتا اور سکڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے چاروں جانب سرحد کا تعین سمندر کرتا ہے۔

روڈریگیز کے اطراف میں لگون یا جھیل سی بنی ہوئی ہے۔ جزیرے کی سطح درمیان میں بلند ہو کر مشرق میں پھر سے لگون میں گم ہو جاتی ہے اور اس سے پرے سمندر کی لہریں اور پھر افق نظر آنے لگتا ہے۔

رودرِیگز

،تصویر کا ذریعہWalter Bibikow/Getty Images

،تصویر کا کیپشنآتش فشان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اس چھوٹے سے جزیرے کو آبی مخلوق سے بھری ایک جھیل نے گھیرے میں لے رکھا ہے جہاں مقامی مچھیرے آکٹوپس کا شکار کرتے ہیں

اگر روڈریگیز قید خانہ ہوتا تو یہاں سے فرار ناممکن تھا مگر اس کی یہ تنہائی ایک ایسی دوست ہے جو اسے دنیا اور اس کے شور سے بچائے ہوئے ہے۔

دنیا کو روڈریگیز کا علم اس وقت ہوا جب سنہ 1528 میں پہلی مرتبہ ایک جہاز وہاں پہنچا۔ اس وقت وہاں پر کوئی نہیں تھا اور اگر اس سے پہلے وہاں کوئی جہاز گیا بھی تھا تو اس کے عملے نے اپنی کوئی نشانی نہیں چھوڑی تھی۔

یہ مشرقی افریقہ کو عالم عرب اور ایشیا کے ساتھ جوڑنے والے مصروف تجارتی راستوں سے بہت زیادہ جنوب اور مشرق میں واقع ہے۔

سولہویں صدی میں جب پرتگالی، ڈچ اور فرانسیسی جہاز بھی بھٹک کر روڈریگیز پہنچتے تھے تو بس وہاں اتنی ہی دیر قیام کرتے تھے کہ اپنے خوراک کا ذخیرہ تازہ کر سکیں۔ اس کے نتیجے میں بڑے کچھوے اور سولیٹئر نامی پرندہ ملاحوں کے ہاتھوں یہاں سے ایسے معدوم ہو گئے جیسے ماریشس سے ڈوڈو نامی پرندے کی نسل مٹ گئی تھی۔

سنہ 1691 میں ایک فرانسیسی شہری فرانسواں لیگاٹ اپنے سات ساتھیوں کے ساتھ اس جزیرے پر پہنچے۔ ان لوگوں نے فرانس میں کیتھولِک عقیدہ رکھنے والی حکومت کی طرف سے مختلف عقیدے کے حامل افراد کو دی جانے والی ایذا کی وجہ سے وہاں پناہ لی تھی۔

یہاں پہنچنے پر لیگاٹ نے یہاں پائے جانے والوں کچھوؤں کے بارے میں لکھا تھا کہ ’ان کے خول پر انسان بغیر زمین چھوئے 100 قدم تک چل سکتا ہے۔‘

لیگاٹ اور ان کے ساتھیوں نے رودرِیگز کو آباد کرنے کا فیصلہ کیا مگر دوری اور (عورتوں کی عدم موجودگی) ان کی برداشت سے باہر تھی۔ دو سال بعد ان کی قوت برداشت جواب دے گئی اور وہ کشتی بنا کر وہاں ایسے فرار ہوئے کہ پھر پلٹ کر نہیں دیکھا۔

پورٹ ماتھورین

،تصویر کا ذریعہYann Guichaoua-Photos/Getty Images

،تصویر کا کیپشنپورٹ ماتھورین کا خوابیدہ قصبہ دنیا کا سب سے چھوٹا دارالحکومت ہے

آج کل باقی دنیا سے روڈریگیز کی دوری اس کی کشش کا ایک اہم پہلو ہے۔ کووڈ کی عالمی وبا سے پہلے ہر سال تقریباً 15 لاکھ سیاح ماریشس کی سیر کو جاتے تھے۔ ان میں سے محض 90 ہزار (6 فیصد سے بھی کم) رودرِیگز جاتے تھے اور جو یہاں آتے تھے انھیں اس قدیم ماریشس کی بازگشت سنائی دیتی تھی جب وہاں سیاحوں کی آمد شروع نہیں ہوئی تھی۔

جزیرہ پر کوئی ٹریفک جام نہیں۔ کسی کو بھی کسی کام کی جلدی نہیں ہوتی اور جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں۔

ماریشس کے بہرین شیف میں سے ایک فرانسواس بیپٹِسٹ روڈریگیز پر 54 برس سے رہ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’روڈریگیز انتہائی محفوظ جگہ ہے۔ جب بھی یہاں گرمی پڑتی ہے، جو کہ اکثر پڑتی ہے، تو ہم اپنے دروازے کھول کر سو جاتے ہیں۔‘

جرائم سے پاک ہونے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ یہاں پر لوگ ایک دوسرے سے واقف ہیں۔ یہاں کی آبادی 45 ہزار ہے اور ماریشس کے برعکس جہاں بھانت بھانت کے لوگ آباد ہیں، یہاں کی 90 فیصد آبادی کریول نسل پر مشتمل ہے جو افریقی غلاموں اور یورپی آبادکاروں کے اختلاط سے وجود میں آئی ہے۔

بیپٹسٹ کا کہنا ہے کہ ’سیگا ناچ ہمیں افریقہ سے، شام کی چائے اور بیکن (سور کا نمکین گوشت) انگریزوں سے اور پیسٹری فرانسیسیوں سے ورثے میں ملی ہے۔‘

فرانسواس کے شوہر لوال بیپٹسٹ کہتے ہیں کہ ’رودرِیگز ایک گاؤں جیسا ہے۔ ہر کوئی ہر کسی کو جانتا ہے۔‘

دونوں میاں بیوی جب کبھی ماریشس میں اپنے آبائی علاقے میں جاتے ہیں تو جلد ہی روڈریگیز کی پر سکون زندگی کی طرف لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔

روڈریگیز کے دارالحکومت پورٹ ماتھورین میں بھی کبھی کبھار ہی چہل پہل نظر آتی ہے وہ بھی اس وقت جب کوئی جہاز یہاں آ کر لنگر انداز ہوتا ہے۔ سنیچر مارکیٹ صبح کے 10 بجے تک ویران ہو جاتی ہے۔

روڈریگیز کا پورا جزیرہ خاموشی میں مزے لینے کی جگہ ہے۔

رودرِیگز

،تصویر کا ذریعہAnthony Ham

،تصویر کا کیپشنآکٹوپس کو دھوپ میں سکھانے کا یہ منظر جزیرے پر عام پایا جاتا ہے

یہ بھی پڑھیے

جزیرے کے مغرب میں کچھوؤں کی نسل بحالی کے ایک زبردست منصوبہ پر کام جاری ہے۔ کئی صدیوں تک ملاحوں اور آبادکاروں کی یہاں آمد مقامی کچھوؤں اور جنگلات کی بربادی کا سبب بنی۔

اس منصوبے پر کام کرنے والے چاہتے ہیں کہ روڈریگیز کی وہ شکل بحال کی جائے جو 17ہویں صدی میں ہوا کرتی تھی یا کم سے کم اس کے قریب ترین پہنچنے کی کوشش کی جائے۔ اس مقصد کے لیے وہ بحرِ ہند کے دوسرے جزیروں سے یہاں پر کچھوے لے کر آئے ہیں اور ایک لاکھ سے زیادہ ایسے درخت بھی لگائے ہیں صرف جو روڈریگیز ہی میں پائے جاتے ہیں۔

مغربی ساحل پر سڑک کے کنارے لکڑی کے بنے فریموں پر آکٹوپس لٹکے نظر آتے ہیں۔ یہ یہاں کی خوراک کا اہم حصہ اور مقامی لوگوں کی مرغوب غذا ہیں۔ لوال کہتے ہیں کہ ’ہر روڈریگن ہفتے میں دو سے تین بار آکٹوپس کھاتا ہے۔‘

فرانسواس کہتی ہیں کہ ’آکٹوپس کا شکار زیادتر خواتین کرتی ہیں جو بے روزگار ہوتی ہیں۔ وہ یہ کام علی الصبح انجام دیتی ہیں تاکہ گھر کے دوسرے کاموں کے لیے ان کے پاس وقت ہو اور اس طرح سے وہ گھر کی آمدن میں اپنا حصہ ڈالتی ہیں۔‘

رودرِیگز

،تصویر کا ذریعہRicardo Stephan/Getty Images

،تصویر کا کیپشنرودرِیگز زمین پر سب سے دور واقع جزیرہ ہے

آکٹوپس کے حد سے زیادہ شکار کو روکنے اور اپنی قومی ڈِش کو بچانے کے لیے حکام نے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ فروری-مارچ تا سمتبر-اکتوبر کسی کو آکٹوپس پکڑنے کی اجازت نہیں۔ اس دوران شکار کرنے والوں کو دوسرے کام کرنے کو دیے جاتے ہیں، جیسے ساحلوں کی صفائی ستھرائی وغیرہ اور انھیں اس کا معاوضہ دیا جاتا ہے۔

جزیرے کے دوسرے سرے پر ساحل کے ساتھ بنی ہوئی کٹیاؤں میں آکٹوپس کے بنے ہوئے مختلف طرح کی ڈشیں تیار کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ لابسٹر اور دوسری تازہ سمندری خوراک بھی فروخت ہوتی ہے۔

میں جب بھی روڈریگیز جاتا ہوں تو کھانے کے لیے چیز رابرٹ کا رخ کرتا ہوں۔ وہاں جا کر میں ایسا بنتا ہوں جیسا کہ مینو پڑھ رہا ہوں۔ پھر پوچھتا ہوں کہ تازہ کیا ہے۔ میں بہت دیر تک پام کے درختوں میں سے سمندر کو تکتا رہتا ہوں۔

پھر میں حسبِ معمول آکٹوپس لانے کا آرڈر دیتا ہوں اور جب بھی ایسا کرتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے جیسا کہ پہلی مرتبہ روڈریگیز آیا ہوں۔