پاکستان میں ایڈونچر سیاحت: غیر ملکی سیاح جنھیں فائیو سٹار ہوٹل کی بجائے خیموں میں رہنا پسند ہے

،تصویر کا ذریعہSamuel Joynson
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
’ہم دنیا کے کئی ممالک میں مہم جوئی کی سیاحت کر چکے ہیں۔ مگر جتنا مزہ پاکستان میں آیا، اتنا کبھی بھی نہیں آیا۔ اگلے سال یہاں زیادہ وقت گزاریں گے۔‘
یہ الفاظ اپنے شوہر کے ہمراہ پولینڈ سے آئی خاتون مہم جو سیاح مزور مگدالینا منڈیلا کے تھے جنھوں نے سردیوں کی مہم جوئی کے لیے دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کے دامن میں کیمپ لگایا تھا۔
پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں وہ سب کچھ ہے جس کی خواہش ایک سیاح اور بالخصوص مہم جوئی کے شوقین لوگ کر سکتے ہیں۔
مزور مگدالینا منڈیلا مہم جو سیاح ہیں اور ہر سال اپنی سالانہ تعطیلات کے موقع پر کسی نہ کسی ملک میں ایڈونچر یا مہم جوئی کی سیاحت کے لیے جاتی ہیں۔
سیر و سیاحت کے حوالے سے مستند سمجھے جانے والے امریکی میگزین سی این ٹریولر نے چند دن قبل پاکستان کو سیر و سیاحت کے لیے بہترین مقام قرار دیا تھا تو اب بین الاقوامی تنظیم برٹش بیک پیکر سوسائٹی نے پاکستان کو ایڈونچر ٹورازم کے لیے دنیا کا تیسرا بہترین مقام قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برٹش بیک پیکر سوسائٹی کے شریک صدر سیموئیل جوئنسن نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان کو ایڈونچر ٹورازم میں دنیا کا تیسرا بہترین مقام اپنے ممبراں سے رائے حاصل کرنے کے بعد قرار دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے ممبران میں مشہور زمانہ اور تجربہ کار مہم جو ہیں، جن کی رائے کو ایڈونچر ٹورازم کی دنیا میں مقدم سمجھا جاتا ہے۔

ایڈونچر ٹورازم کیا ہے؟
برٹش بیک پیکر سوسائٹی کے دوسرے شریک صدر مائیکل وورل کا کہنا تھا ایڈونچر ٹورازم میں ہر وہ کام شامل ہوتا ہے جو کوئی عام سیاح نہیں کرتا۔ عام سیاح چاہتا ہے کہ وہ تھکے بغیر ہر قسم کی سہولتوں کے ساتھ سیر و تفریح کرے، کچھ دن ہلا گلا کرے اور واپس اپنے گھر اور کام کے لیے چلا جائے۔
دوسری جانب ایڈونچر ٹورسٹ یا مہم جوئی کا شوقین سیاح خود کو مشکلات میں ڈالتا ہے۔ وہ ان مقامات پر جاتا ہے جہاں پر عام حالات میں بھی عام افراد جانا اور رہنا پسند نہیں کرتے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی مقام میں جا کر نئی وادیاں اور پہاڑیاں تلاش کرنا، یہان تک کہ نئے کلچر، دم توڑتی تہذیبوں، کھانوں، زبانوں کو دنیا کے سامنے لانا بھی ایڈونچر ٹورازم کہلاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSamuel Joynson
پاکستان ٹور آپریٹر ایسوسی ایشن کے سابق جنرل سیکرٹری نیک نام کریم کے مطابق چند سال پہلے تک ایڈونچر ٹورازم صرف مشغلہ ہوتا تھا۔ ’مگر اب یہ مکمل پیشہ بن چکا ہے اور اس میں باقاعدہ تربیت حاصل کی جاتی ہے۔‘
پہاڑوں، وادیوں اور صحراؤں میں مہم جوئی کرنا تو ایڈونچر ہے ہی۔ لیکن اب تو سائیکل و موٹر سائیکل پر یا پیدل سفر کرنا بھی ایڈونچر ٹورازم کا بڑا حصہ ہے۔
پاکستان میں ایڈونچر ٹورازم
پاکستان میں 9/11 کے بعد عملاً غیر ملکی سیاحوں نے پاکستان کا رخ کرنا چھوڑ دیا تھا مگر مہم جو سیاح اس دوران بھی پاکستان آتے تھے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2018 میں تقریباً 18 ہزار غیر ملکی سیاحت کے لیے پاکستان آئے تھے جبکہ یہی تعداد سال 2014 اور 2015 میں تقریباً چھ ہزار اور سات ہزار تھی۔ سال 2016 اور 2017 میں بالترتیب 10 اور 11 ہزار تھی۔
پاکستان ٹور آپریٹر ایسوسی ایشن کے مطابق ایڈونچر ٹورازم کے لیے سال 2018 میں مجموعی طور پر 1232 غیر ملکی مہم جو آئے تھے۔ جس میں پہاڑ کی مہم جوئی کے لیے 41 گروپ آئے۔ ان میں 350 ممبران تھے جبکہ ٹریکنگ کے لیے 150 گروپ آئے جس میں ممبران کی تعداد 882 تھی۔
سال 2017 میں مجموعی طور پر 1161 مہم جو پاکستان آئے تھے۔ جن میں پہاڑوں کی مہم جوئی کے لیے آنے والوں کی تعداد 304 اور ٹریکنگ کے لیے آنے والوں کی تعداد 857 تھی۔ سال 2016 میں 705، 2015 میں 539، 2014 میں 660، جبکہ 2013 میں یہ تعداد 532 تھی۔
سال 2019 میں غیر حتمی تعداد 621 رہی مگر بتایا جا رہا ہے کہ رواں سال یہ تعداد گزشتہ سالوں سے زیادہ ہوسکتی ہے۔
پاکستان ٹور آپریٹر ایسوسی ایشن کے مطابق غیر ملکی مہم جو زیادہ تر بلتستان، ہنزہ، دیامیر، استور، غذر، چترال، سوات اور ناران کاغان کا رخ کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMazur Magdalena Mandela
سیموئیل جوئنسن کا کہنا تھا کہ ہم جب پاکستان کے شمالی علاقہ جات گئے تو وہاں کی مہمان نوازی سے بہت متاثر ہوئے۔ ’ہم نے کئی مرتبہ مقامی لوگوں کی دعوت پر کھانے کھائے اور ان کے پاس رات کو مہمان تھے۔ یہ بھی ہمارے لیے ایڈونچر ہی تھا۔ مقامی کلچراور رہن سہن کا طریقہ بھی ہماری دلچسپی کا باعث تھا۔‘
نیک نام کریم کا کہنا تھا کہ جس طرح حکومت سیاحت کو ایک صنعت کے طور پر متعارف کروانا چاہتی ہے اور اس کے لیے کام کررہی ہے۔ اگر یہ ممکن ہوگیا تو مستقبل میں ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں سیاحت سے 10 سے 15 بلین ڈالر ریوینیو پیدا ہوگا، جس میں پانچ سے چھ ارب ڈالر کا ریوینیو ایڈونچر ٹورازم سے آنے کی توقع ہے۔
پاکستان میں ایڈونچر ٹورازم کے حوالے سے مسائل
مزور مگدالینا منڈیلا کا کہنا تھا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ غیر ملکیوں کے لیے ویزا کے حوالے سے بہتر فیصلے کرنے کے علاوہ اس کا حصول آسان بنائے۔
ان کا کہنا تھا کہ آن لائن ویزا کے لیے درخواست دی تو اس میں اتنے زیادہ فارم بھرنے پڑے کہ میں اور میرا خاوند تنگ آگئے تھے۔ مگر شوق کی خاطر پیچیدہ فارم بھرے اور پھر اس کے بعد ایک طویل انتظار کرنا پڑا۔ ایک موقع پر تو ایسے لگا کہ شاید ہماری چھٹیاں ختم ہوجائیں گی مگر یہ مرحلہ ختم نہیں ہوگا۔
ان کے مطابق اسی طرح کے ٹو کے دامن پر موجود پورٹرز یا قلی بھی زیادہ تربیت یافتہ نہیں تھے۔
’سردیوں میں دیکھا کہ کے ٹو کے دامن میں کیمپ لگے ہوئے تھے۔ اب یہ کیمپ وہاں پر گند بھی پھینک رہے ہیں۔ کے ٹو سمیت دیگر بلند و بالا پہاڑ سونے و جوہرات سے زیادہ قیمتی ہیں۔ اگر وہاں پر گند ہوگا تو پھر یہ قیمتی دولت خطرے میں ہوگی۔ اس قیمتی دولت کو بچانے کے اقدامات بھی کرنے ہوں گے۔‘
الپائن ٹور آپریٹر کے محمد علی کا خیال تھا کہ غیر ملکیوں کو سیکیورٹی نام پر بہت زیادہ پریشان کیا جاتا ہے۔ ’اسلام آباد سے نکل کر جب وہ شمالی علاقہ جات کی طرف جاتے ہیں تو ہر مقام پر ان سے پاسپورٹ طلب کیے جاتے ہیں، سوالات پوچھے جاتے ہیں، جگہ جگہ اندراج کروانا پڑتا ہے جس سے کئی لوگ پریشان ہوجاتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہMazur Magdalena Mandela
ان کا کہنا تھا کہ سیاحوں کے لیے بہت کم طبی، سہولت اور معلومات کے مراکز قائم ہیں، اور ان کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہیے۔
سیموئیل جوئنسن کا خیال تھا کہ پاکستان اور شمالی علاقہ جات میں مناسب رہائش کے لیے ہوٹل وغیرہ کی تعداد بہت ہی کم ہی اور کرایہ بہت زیادہ ہیں۔ جب اسلام آباد اور پھر شمالی علاقہ جات گئے تو وہاں پر 100 ڈالر سے لے کر 200 ڈالر تک ایک رات کا کرایہ ادا کرتے رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کرائے باقی دنیا، جدید ترین ممالک اور پھر پاکستان کے پڑوسی ممالک سے بھی بہت زیادہ ہیں اور مناسب کرایوں پر مناسب رہائشیں قائم کرنا ہوں گی۔
مائیکل وورل کا کہنا تھا کہ پیشہ ور اور بڑی مہم جوئیاں کرنے والے تو پاکستان کے بلند و بالا پہاڑوں، میدانوں سے واقفیت رکھتے ہیں، مگر اس کے برعکس شوقین اور مشغلہ نئے طور پر اختیار کرنے والے مہم جو واقفیت نہیں رکھتے، ان کے لیے پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنا بین الاقوامی برانڈ لانچ کرے، بین الاقوامی ٹور کمپنیوں سے رابطے پیدا کرے اور ان کو سہولتیں فراہم کرے۔
نیک نام کریم کے مطابق سیاحت اب صنعت اور پیشہ بن چکی ہے، اس لیے اس میں تربیت یافتہ لوگوں کی ضرورت ہے، مگر پاکستان میں ایسے ادارے بہت کم ہیں جہاں پر سیاحت کے حوالے سے کوئی تربیت فراہم کی جاتی ہو۔
’اس وقت کوئی 400 افراد کو ٹریکنگ گائیڈ کے لائسنس ایشو کیے گئے ہیں، جن میں سے صرف 100 کے قریب ہی فعال ہیں، مگر بدقسمتی سے ٹریکنگ گائیڈ اور گائیڈ مناسب طور پر تربیت یافتہ نہیں ہیں۔ اس وجہ سے اکثر اوقات غیر ملکی مہم جو ٹریکنگ گائیڈ اپنے ہمراہ لے کر آتے ہیں، جو مہنگے بھی ہوتے ہیں، جس وجہ سے گروپ کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر تربیت کے مراکز کھولے جہاں پر بین الاقوامی ماہرین کو بلا کر مقامی لوگوں کو تربیت دی جائے۔ اسی طرح گائیڈ، ہوٹل، ڈرائیورز، ویٹرز سب کو یہ تربیت ملنی ضروری ہے تاکہ آنے والے سیاح مطمئن ہوسکیں اور مقامی آبادیوں میں روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں۔

،تصویر کا ذریعہSamuel Joynson
حکومت پاکستان کیا کررہی ہے؟
پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے چیئرمین انتخاب عالم کا کہنا تھا کہ آن لائن ویزا درخواست میں مسائل کی شکایات ملی ہیں، جس کے بعد وزارتِ داخلہ اور وزارتِ خارجہ کے ساتھ میٹنگز کی گئی ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ آنے والے دنوں میں اس کو بہتر کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ سیاحت بالخصوص ایڈونچر ٹورازم کے مختلف شعبوں میں تربیت یافتہ لوگوں کی کمی کو دور کرنے کے لیے پالیسی بنائی جارہی ہے اور ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو سیاحت میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے مناسب ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح حکومت بین الاقوامی ٹور آپریٹرز کے ساتھ بھی رابطوں میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تیراکی اور غوطہ خوری کرنے والوں کو بھی راغب کرنے کے لیے سہولتیں کی فراہمی اور منصوبے پر کام جاری ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ حکومت کو یہ بھی دیکھنا ہے کہ اگر ہم نے بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو ایڈونچر ٹورازم کے لیے پہاڑوں پر جانے کے پرمٹ دے دیے تو ماحولیاتی طور پر کیا مسائل پیدا ہوں گے۔
’شمالی علاقہ جات کو ماحولیاتی مسائل سے بچانے کے لیے مخصوص تعداد میں ویزا اور پرمٹ جاری کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے جبکہ یہ کوشش بھی کی جارہی ہے کہ سیاحوں کا رخ ایک ہی علاقے اور پہاڑی سلسلے پر نہ ہو۔‘












